تلنگانہ میں ایسا لگتا ہے کہ اعلی عہدوں پر فائز افراد نے ہزاروں کروڑ روپئے کی ناجائز دولت جمع کرلی ہے اور انہوں نے اپنے اعلی سرکاری عہدوں کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنانے کی بجائے ذاتی دولت جمع کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے اور وہ اپنے عہدوں کا بیجا اور غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف کروڑہا روپئے کی دولت جمع کرنے ‘ بے تحاشہ اثاثہ جات بنانے ‘ جائیدادیں خریدنے اور سونے و چاندی کے انبار لگانے میںمصروف رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں چند ایسے عہدیداوں کے خلاف محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے کارروائی کی گئی جن کے اثاثہ جات کروڑہا روپئے تک پہونچ گئے تھے ۔ سینکڑوں کروڑ کے اثاثہ جات ایک عہدیدار کے پاس پایا جانا معمول کی بات نہیں کی جاسکتی ۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری دفاتر اور عہدوں پر کرپشن پایا جاتا ہے ۔ یہ تاثر عام ہے کہ سرکاری دفاتر میںشائد ہی کوئی کام ایسا ہو جو کسی کرپشن کے بغیر انجام دیا جاتا ہو ۔ تاہم کرپشن کی نوعیت اس حد تک بڑھ جائے گی یہ شائد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔ پہلے یہ تاثر تھا کہ کچھ مخصوص شعبہ جات ہیں جہاںکرپشن عام ہوتا ہے اور بغیر کسی رقمی لین دین کے کوئی سنوائی نہیں ہوتی ۔ تاہم اب یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ شائد ہی کوئی سرکاری محکمہ ایسا رہ گیا ہو جہاں کرپشن کا چلن عام نہیں ہوگیا ہو ۔ نیچے سے اوپر کی سطح تک ہر جگہ کرپشن عام ہوگیا ہے اور کرپشن کے بغیر کوئی کام آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے ۔ کسی کے بلز جاری کرنے ہیں تو رقومات حاصل کی جا رہی ہیں ‘ کسی کو کوئی کنٹراکٹ دینا ہے تو اس کیلئے کرپشن ضروری ہوگیا ہے ۔ معمولی کام لے کر بڑے سے بڑے کام تک بھی یہ کرپشن عام ہوگیا ہے ۔ خاص طور پر اعلی عہدوں پر فائز افراد جو دولت جمع کر رہے ہیں وہ سب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ ایک ایک عہدیدار کے اثاثہ جات 100 کروڑ ‘ 200 کروڑ اور 300کروڑ روپئے سے زائد تک کے پائے جا رہے ہیں۔ اتنی دولت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیںہوتی جتنی ان بد عنوان عہدیداروں کی پائی جا رہی ہے ۔
ایک ڈی ایس پی کے اثاثہ جات تین سو کروڑ روپئے کے پائی گئے ‘ ایک اور عہدیدار کے اثاثہ جات 200 کروڑ کو پار گئے جبکہ کل ایک اور چیف انجینئر کو گرفتار کیا گیا جس کے اثاثہ جات سو کروڑ روپئے سے زائد کے پائے گئے ہیں۔ یہ اثاثہ جات بھی وہ ہیں جو سامنے آئے ہیں۔ ایسے بے شمار اثاثہ جات بھی ہوسکتے ہیں جن کا شائد پتہ ہی نہ چلے ۔ راشی اور بدعنوان عہدیداروں کے اثاثہ جات اور بھی کروڑ ہا روپئے کے ہوسکتے ہیں ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ عوامی رقومات کا کس طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے اور کس طرح سے عوام کی دولت کو چند مٹھی بھر بدعنوان اور رشوت خور عہدیدار ہڑپ رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ریاست میں ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک عہدیدار کے کرپشن کے نتیجہ میں دیگر کئی شعبہ جات میں بدعنوانیاںجنم لیتی ہیں اور اس کے اثرات کئی شعبہ جات پر مرتب ہوتے ہیں۔ کرپشن کے نتیجہ میں سماج میںجو لعنتیں اور برائیاں پیدا ہو رہی ہیں ان کے نتیجہ میں اس لعنت سے بچنا بہت سے عہدیداروں کیلئے مشکل بھی ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کرپشن سے بچنے والے عہدیداروں کو کہیں برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ ان کا ایک سے دوسری جگہ بارہا تبادلہ کیا جا تا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کرپشن کس حد تک سرائیت کرگیا ہے ۔ یہ صورتحال انتہائی شرمناک اور افسوسناک کہی جاسکتی ہے اور اس کا سدباب اور ازالہ کیا جانا چاہئے ۔
اعلی عہدیداروں کے اس قدر بھاری کرپشن سے پتہ چلتا ہے کہ نچلی سطح پر کیا صورتحال ہوسکتی ہے اور کرپشن کس حد تک پہونچ گیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صورتحال کا ازالہ کرنے اور کرپشن کے سلسلہ کو روکنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے ۔ سرکاری محکمہ جات اور عہدیداروں میں خصوصی مہم چلائی جائے اور شعور بیدار کرتے ہوئے کرپشن سے بچنے کیلئے حلف دلایا جائے ۔ عوامی اور سرکاری زندگی میںکرپشن کا خاتمہ کرنا سب کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے اور عہدیداروں میں جوابدہی کا احساس پیدا کیا جانا چاہئے ۔