جنیوا : اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوشکتے ہیں۔مئی میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ تعداد 2018 میں جاری کردہ رپورٹ سے تقریباً دوگنی ہے۔رپورٹ کے مطابق یوکرین میں جنگ سے بڑھتی ہوئی غربت اور بڑھتی ہوئی اشیاء کی قیمتیں بھی اس حقیقت کا ایک حصہ ہیں۔واضح رہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے بچے اپنے قد کے لحاظ سے بہت پتلے اور چھوٹے ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔غذائی قلت کی سب سے فوری نظر آنے والی اور جان لیوا شکل ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم 13 لاکھ سے زائد بچے عالمی سطح پر اس کا شکار ہیں۔