نیویارک ۔ 15 مئی (ایجنسیز) امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر فرانچسکا البانیز پر عائد امریکی پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ پابندیاں گزشتہ سال جولائی میں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب فرانچیسکا البانیز نے غزہ میں امریکی پالیسیوں اور اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کی تھی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ البانیز نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں وارنٹ جاری کرنے کی سفارش کی تھی۔اطالوی نڑاد فرانچیسکا البانیز 2022 سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق خصوصی نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو مسلسل ’نسل کشی‘ قرار دیتی رہی ہیں، جس پر اسرائیل اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آزادی اظہارِ رائے کا تحفظ ہمیشہ عوامی مفاد میں ہوتا ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے پابندیوں کے خلاف عبوری حکمِ امتناع جاری کیا۔عدالتی فیصلے کے بعد فرانچیسکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے شوہر، بیٹی اور حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ان کے مشن کو کمزور کرنا تھا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں گی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے آزاد ماہرین ہوتے ہیں، جو انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقرر کیے جاتے ہیں، تاہم وہ اقوام متحدہ کی باضابطہ نمائندگی نہیں کرتے۔ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ میں آزادی اظہار، انسانی حقوق اور غزہ جنگ سے متعلق جاری عالمی بحث میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔