الیکشن میں ہارکے بعد امریکہ کی 9 ہندوستانی کمپنیوں پر پابندی

   

تحدیدات کے باوجود ایران کو تیل کی تجارت جاری رکھنے میں مدد کا الزام: امریکی وزیرفینانس

واشنگٹن ۔ 5؍نومبر ( ایجنسیز )امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف پابندیوں کی کارروائی جاری رہے گی۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ زمینی، سمندری یا فضائی راستوں سے ایرانی حکومت کی مدد کرنے والوں کو نشانہ بناتی رہے گی۔امریکہ نے ایران کے مبینہ طور پر ممنوعہ تیل کے کاروبار میں مدد کرنے کے الزام میں ہندوستانی تاجر سنیل کمار شرما، ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد اور ہندوستان کی نو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق، یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر سمندری دھوکہ دہی کے ذریعے ایران کو پابندیوں کے باوجود تیل کی تجارت جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہا تھا۔ امریکی حکام نے اسے ایک بڑے مبینہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ کو اس نیٹ ورک کا مبینہ منتظم بتایا ہے۔ الزام ہے کہ دونوں نے جہازوں کے لیے جعلی بحری رجسٹریشن اور قومی پرچم سے متعلق سرٹیفکیٹ تیار کرائے تاکہ ایران کا تیل لیجانے والے جہاز بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ امریکی انتظامیہ نے یہ کارروائی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی ہے جس کا مقصد ایران کی تیل کی فروخت اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں سے ہونے والی آمدنی کو روکنا ہے۔امریکی وزارت خزانہ کے مطابق، سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ چنڈی گڑھ سے اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ کئی پابندی زدہ جہازوں نے ان جعلی رجسٹریوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی تیل کی نقل و حمل کی اور اس طرح بین الاقوامی پابندیوں اور بحری ضوابط سے بچنے کی کوشش کی۔امریکی وزارت خزانہ نے اس مبینہ نیٹ ورک سے منسلک ہندوستان میں قائم 9 کمپنیوں اور اداروں کو بھی پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ ان میں اوشینک ٹیکنالوجیز انڈیا، آریاورت شپ مینجمنٹ، پریسپٹ ٹرینڈز، پولینیشیا میری ٹائم، الیکزاریا فنسرو، الیکزاریا میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ، وہارابوٹنگ، آریاورت میری ٹائم اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ شامل ہیں۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کو متاثر کیا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا معاملہ ایسا قدم تھا جو انہیں اٹھانا پڑا اور وہ اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اشارہ بھی دیا تاہم ان کے ایجنڈے کو روکنے کیلئے صدارتی ویٹو کے استعمال کی دھمکی بھی دی۔