اماراتی صدر کا دورہ فرانس، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پربات چیت

,

   

توانائی کے شعبہ میں معاہدے متوقع، قبل ازیں ڈسمبر میں 80 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ ہوا تھا
پیرس : متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اتوار کے روزاپنے پہلے غیرملکی سرکاری دورے پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہنچے ہیں۔ان کے ایجنڈے میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت سرفہرست ہے۔وہ پیرکو ایلزے محل میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوایل ماکرون سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ وہ یہ دورہ امریکی صدر جوبائیڈن کے مشرق اوسط کے پہلے دورے کے اختتام پر کررہے ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں صدربائیڈن سے ملاقات کی تھی۔فرانسیسی صدر کے ایک مشیر نے ڈیزل کی رسد کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ اس دورے کا ایک اہم پہلو’’متحدہ عرب امارات کی جانب سے فرانس کو مہیا کی جانے والی ہائیڈروکاربن کی مقدارکے بارے میں دی گئی ضمانتوں‘‘کو متعارف کرانا ہے۔ واضح رہے کہ 2019 میں فرانس کو متحدہ عرب امارات کی برآمدات کا حجم 1.5 ارب یورو تک پہنچ گیا تھا۔اس میں زیادہ تر حصہ پیٹرولیم مصنوعات تھا لیکن امارات فی الحال فرانس کو ڈیزل مہیا نہیں کرتا ہے۔ ایلزے محل کے ذرائع کے مطابق فرانس یوکرین میں تنازع کے تناظر میں اپنی رسد کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اماراتی صدر کے تین روزہ دورے کے موقع پرٹرانسپورٹ اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دست خط متوقع ہیں۔ قبل ازیں دسمبر میں یواے ای نے فرانس سے 80 رافیل جنگی طیارے خرید کرنے کے لیے ریکارڈ 14 ارب یورو کے معاہدے پر دست خط کیے تھے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات لوفرے میوزیم کی واحد غیرملکی شاخ کا میزبان ہے۔ یواے ای خطہ خلیج میں سب سے بڑی فرانسیسی اور فرانکوفون تارکین وطن کمیونٹی کا گھر ہے۔ یواے ای کے برسوں سے حقیقی حکمران شیخ محمد نے مئی میں اپنے سوتیلے بھائی شیخ خلیفہ کی طویل علالت سے وفات کے بعد منصب صدارت سنبھالا تھا۔ان کے میزبان فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون سے اچھے دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔ صدر کی حیثیت سے اپنی پہلی غیرملکی منزل کے طور پر امریکا کے بجائے فرانس کا انتخاب کرکے شیخ محمد واشنگٹن کو ایک اشارہ بھیج سکتے ہیں اور یہ کہ ’’ہم کسی قیمت پرامریکہ کے مطالبات کا جواب دینے کی جلدی میں نہیں ہیں‘‘۔متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے واشنگٹن کا تزویراتی شراکت دار رہا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں اس نے اپنی آزادی پرزوردیا ہے۔اس نے فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت میں امریکا اورالبانیا کی پیش کردہ قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹ سے گریز کیا تھا۔مصر میں سیاحوں کا ہاٹ ایئر بیلون 30 مسافروں کو لے کر زمین پر آ گرا ۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع الاقصر گورنری میں آج پیر کی صبح ایک ہاٹ ایئر بیلون کے گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ سیاحتی غبارے پر تقریباً 30 مسافر سوار تھے۔سول پروٹیکشن حکام کو اطلاع ملی تھی کہ ہاٹ ایئر بیلون اپنی پرواز کے آغاز کے فوراً بعد گر گیا تھا جس میں متعدد مسافر سوار تھے۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طورپر جائے وقوعہ پر پہنچیں تاکہ متاثرین کی فوری مدد کی جا سکے۔