بشیر باغ کے چوراہا پرنصب مجسمہ کو ہٹا دیا گیا،کامیاب نمائندگی پر شہریوں میں خوشی و مسرت کا اظہار
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( راست ) : مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے آج ایم بی ٹی کے جنرل سکریٹری سید مصطفی محمود، عبدالرحمن، الطاف نصیب خان، سکندر اللہ خان، محمد صابر، شیخ ربانی، شیخ ظفر، پاشا بھائی اور دیگر ایم بی ٹی قائدین کے ہمراہ جی ایچ ایم سی کمشنر جناب آر۔ وی۔ کرنن، آئی اے ایس، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس حیدرآباد جناب پی۔ پروین کمار اور عابدس پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر جناب کے۔ پرشورام سے ملاقات کی اور بشیر باغ میں حالیہ پیش رفت کے سلسلے میں ایک یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں بشیر باغ کے جی ایچ ایم سی پارک میں مبینہ طور پر بغیر اجازت شری رام کا ایک بڑا کٹ آؤٹ نصب کیے جانے ، پارک کے اندر مبینہ طور پر مذہبی ڈھانچہ تعمیر کیے جانے اور بعض بی جے پی/وی ایچ پی قائدین کی جانب سے بشیر باغ ایکس روڈ کا نام تبدیل کرکے آئندہ اسے ’’شری رام چوک‘‘ کہے جانے کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ امجد اللہ خان نے جی ایچ ایم سی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مقام کا معائنہ کریں اور اس بات کی جانچ کریں کہ کٹ آؤٹ نصب کرنے اور تعمیرات کے لیے متعلقہ حکام سے ضروری اجازت حاصل کی گئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی قسم کی غیر مجاز تعمیر یا جی ایچ ایم سی کی اراضی پر ناجائز قبضہ پایا جائے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے حیدرآباد سٹی پولیس سے بھی اپیل کی کہ بشیر باغ ایکس روڈ کا نام تبدیل کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات کا جائزہ لیا جائے اور امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے مناسب احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ مذکورہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے اُنہوں نے ایک دن قبل اعلان کیا تھا کہ ’’ 24 اکٹوبر چلو بشیر باغ‘‘ چُنانچہ امجد اللہ خان خالد کے اعلان کے بعد ازاں ایم بی ٹی قائدین کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے جلوس کی شکل میں امجد اللہ خان خالد کی قیادت میں مذکورہ واقعہ کے تعلق سے متعلقہ اعلی حکام سے رابطہ قائم کرتے ہوئے نہ صرف مجسمہ سری رام بلکہ بشیر باغ کے نام کو شر پسند عناصر کی جانب سے تبدیل کرنے کی مذموم کوشش سے واقف کرواتے ہوئے جلد سے جلد کارروائی کا مطالبہ کیا موقع کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بروقت عہدیداروں نے سری رام مجسمہ کو ہٹادیا، بشیر باغ مسئلے کی یکسوئی کیلئے کیے گئے اقدام کی شہریوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا اور امجد اللہ خان خالد کی بے خوف بے باک نمائندگی کی ستائش کرتے ہوئے اس واقعہ کو ناقا بل فراموش کارنامہ قرار دیا۔