امریکہ میں گرین کارڈ کی حد اجرائی تعین کیلئے قانون سازی متوقع

   


کارڈ کے منتظر ہندوستانیوں کو شدید مشکلات کا امکان
حیدرآباد۔8۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) حکومت امریکہ کی جانب سے گرین کارڈ کی اجرائی کی حد کے تعین کے سلسلہ میں قانون ساز ی کی صورت میں ہندستانی شہری جو گرین کارڈ کے منتظر ہیں انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ امریکہ نے گرین کارڈ کی اجرائی کے معاملہ میں دنیا بھر کے ممالک کے لئے حد کے تعین کے سلسلہ میں تیار کئے گئے قانون ایکول لیگل ایمپلائمنٹ (ایگل ایکٹ) روشناس کروانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس ایکٹ کو منظوری حاصل ہونا آسان نہیں ہے اس کے باوجود کئی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اس نئی قانون سازی کے بعد ہندستانی شہری جو گرین کا رڈ کا انتظار کر رہے ہیں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بیشتر ایسے شہری جو اس قانون سازی کے ساتھ ہی حد عمر کا شکار ہوجائیں گے انہیں گرین کارڈ حاصل نہیں ہوپائے گا۔ امریکی ایمگریشن حکام کے مطابق ایمگریشن قوانین کے مطابق سالانہ 1.4لاکھ گرین کارڈ ملازمت کی بنیاد پر جاری کئے جاتے ہیںلیکن اب اس قانون کی اجرائی کے بعد محض 7 فیصد گرین کارڈ ایک ملک کو جاری کئے جاسکیں گے جو کہ ہندستانی شہریوں کو عمر گذرنے تک حاصل ہونے کے امکانات موہوم ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق EB2اور EB3 زمرہ میں ایمگریشن کے لئے جن درخواست گذاروں نے اپنی درخواستیں داخل کی ہیں انہیں 90 سال کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ اس قانون کی منظوری کے بعد صورتحال ناقابل بیان حد تک تشویشناک ہوجائے گی کیونکہ ہر ملک کے لئے کوٹہ کے طرز پر ایمگریشن کی فراہمی کے اقدامات کی صورت میں افراد خاندان کی شہریت یا ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ کے حصول میں جو تاخیر ہوگی اس کی مدت کا تعین مشکل ہے۔ ایمگریشن حکام کے مطابق ان کے پاس زیر التواء درخواستوں میں زائد از 2لاکھ شہریوں کی گرین کارڈ کی درخواستوں کی یکسوئی سے قبل وہ مر چکے ہوں گے اور 90 ہزار سے زائد شہریت اختیار کرنے کے منتظر لوگوں کے بچے بھی منتظر ہوں گے جنہیں گرین کارڈ کی اجرائی تک وہ حد عمر سے تجاوز کرچکے ہوں گے۔م