امریکہ کی حماس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں

   

واشنگٹن : امریکہ نے غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس کے لیے مالی بندوبست کرنے والے ایک شخص ،تین مالیاتی سہولت کاروں اور چھے کمپنیوں کے نیٹ ورک پرپابندیاں عاید کردی ہیں۔ان پر الزام عایدکیا گیا ہے کہ انھوں نے امریکا کے نامزد دہشت گرد گروہ کے لیے رقوم مہیّاکی تھیں۔امریکہ کے محکمہ خزانہ نے منگل کوایک بیان میں کہا ہے کہ ان پابندیوں میں حماس کے سرمایہ کاری دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے پاس 50 کروڑڈالر سے زیادہ کے اثاثے ہیں۔نئی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں سوڈان، ترکی، سعودی عرب، الجزائر اور متحدہ عرب امارات میں کام کررہی ہیں۔دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مالیاتی جرائم کے لیے خزانہ کی معاون وزیرایلزبتھ روزن برگ نے اسرائیل میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ آج کی کارروائی میں ان افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس کے لیے رقوم کا بندوبست کرتی تھیں اورانھیں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہاہے۔انھوں نے مزیدکہا کہ حماس نے غزہ کوغیرمستحکم کرتے ہوئے اپنے خفیہ سرمایہ کاری پورٹ فولیو کے ذریعے بھاری آمدنی حاصل کی ہے جبکہ غزہ کے مکینوں کو سخت معاشی حالات کا سامنا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے حماس کے جس مالیاتی عہدہ دارکواپنی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا ہے،ان کا نام عبداللہ یوسف فیصل صابری ہے۔ وہ کویت میں مقیم اردنی شہری ہیں۔انھیں محکمہ خزانہ نے 2006 سے حماس تنظیم کی ایک اہم شخصیت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں حماس کی رسائی بڑھانے میں کردارادا کیا ہے۔