واشنگٹن : ایک امریکی عہدے دار نے پیر کے روز اعلان میں بتایا کہ یمن میں مارچ کے وسط سے اب تک امریکی فوج کے ’’ایم کیو۔9 ریپر‘‘ ماڈل کے سات ڈرون طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک طیارہ کی قیمت تقریباً تین کروڑ ڈالر ہے۔ عہدیدار نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ ڈرون حوثیوں کی فائرنگ سے مار گرائے گئے یا کسی اور وجہ سے تباہ ہوئے۔واضح رہے کہ ’’ایم کیو۔9 ریپر‘‘ ڈرون عام طور پر جاسوسی کے مشنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ٹھکانوں کی نشان دہی اور نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مذکورہ عہدیدارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ ساتواں ڈرون 22 اپریل کو تباہ ہوا تھا۔ یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر امریکہ کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔