امریکی میزائل ذخائر کم ہونےکی خبروں سے ٹرمپ پریشان

   

واشنگٹن۔ 7 اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔میڈیا نے امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہیکہ ٹرمپ نے پینٹاگون کے عسکری ذخائر سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے بعد نئی تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکہ کے بعض اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حالیہ ہفتوں میں امریکی میڈیا میں متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں امریکی فوج کے ماضی کے مقابلے میں کم ہوتے ہوئے جنگی ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان رپورٹس میں خاص طور پر میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم جنگی سازوسامان کی دستیابی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کیلئے مطلوبہ عسکری صلاحیت اور وسائل موجود ہیں۔

ایران کیساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک پائیگا: ٹرمپ

واشنگٹن ۔ 7 اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ طویل عرصے تک مقابلہ جاری رکھ سکیں گے۔رائٹرز نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ جو اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے کے دوران امریکی فوج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائی پریسیڑن میزائلوں کے اپنے عالمی ذخیرہ کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔گولہ بارود کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملک کے پاس بعض مخصوص ہتھیاروں کی تقریباً لامحدود سپلائی موجود ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دیگر ہتھیاروں کے ذخائر محدود ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس بعض اقسام کا انتہائی طاقتور گولہ بارود موجود ہے جس کی سپلائی عملی طور پر لامحدود ہے جبکہ دوسری اقسام کی دستیابی اتنی وافر مقدار میں نہیں ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی کمپنیاں مزید پیدائشی کارخانے قائم کرنے پر کام کر رہی ہیں جن میں پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائلوں کیلئے مخصوص تنصیبات بھی شامل ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریبا مکمل طور پر بند ہے بہت جلد دوبارہ کھل سکتا ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے ذکر کیا کہ اس معاملے پر ہونے والی بات چیت بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود اس مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بہت جلد رونما ہو سکتا ہے۔ایران نے چہارشنبہ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے سلطنت عمان کے ساتھ اس آبنائے ہرمزمیں ایک نئی گذرگاہ کے راستے کے حوالے سے معاہدہ طے کر لیا ہے جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع ہے اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس ہفتے کے دوران کسی معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے جس سے اس اہم آبی راستے کو دوبارہ کھولنے عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنے اور جنگ کے خاتمے میں مدد ملنے کا قوی امکان ہے۔تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر لگائے گئے محاصرے کے خاتمے کی شرط سے مشروط ہو۔
ایران نے اس آبنائے پر ایک حد تک کنٹرول حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ سے پہلے کی طرح ایک کھلی بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں بنے گی۔آبنائے ہرمز کی بندش جہاں سے دنیا کی کل تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے ایندھن اور بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے جس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔