انتخابات سے عین قبل اقتدار کی دعویدار تینوں سیاسی جماعتوں میں اختلافات

   


کانگریس اور بی آر ایس تنازعات کو چائے کی پیالی کا طوفان قرار دے رہی ہیں ، بی جے پی پر پھوٹ ڈالنے کی سازش کا الزام
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی انتخابات سے ایک سال قبل اقتدار کی دعویدار تینوں سیاسی جماعتوں کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی میں قائدین کے درمیان گروپ بندیاں اور اختلافات سے تینوں جماعتوں کی قیادتیں فکر مند ہوگئی ہیں ۔ تاہم یہ بھی قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں کہ ان سب کے پیچھے بی جے پی کی سازش ہے ۔ ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کے بعد ریاست میں تیسری مرتبہ ہیٹ ٹرک کامیابی پانے چیف منسٹر کے سی آر خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ دوسری طرف بی آر ایس میں اختلافات سے کے سی آر فکر مند بھی نظر آرہے ہیں ۔ کل چار ارکان اسمبلی نے ریاستی وزیر لیبر ملا ریڈی کے خلاف بغاوت کردی تھی ۔ متحدہ اضلاع محبوب نگر ، کھمم ، رنگاریڈی ، ورنگل ، عادل آباد کے علاوہ دوسرے اضلاع میں وزراء اور بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کے درمیان ٹال میل کا فقدان ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے دوبارہ موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ جس سے سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی بھی ناراض ہیں ۔ چند ارکان اسمبلی اپنے وارثوں کو انتخابی میدان میں متعارف کرانے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ دوسری جانب کانگریس میں اختلافات اس وقت منظر عام پر آگئے ہیں جب تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ۔ کانگریس پارٹی سینئرس اور ریونت ریڈی کے گروپس میں منقسم ہوگئی ہے ۔ تلگو دیشم سے کانگریس میں شامل 13 قائدین نے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس میں اختلافات اور گروپ بندیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ قائدین کے اختلافات اور کانگریس پارٹی کا ایک دوسرے سے گہرا رشتہ ہے ۔ اقتدار کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والی بی جے پی میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ بی جے پی کے سینئیر قائدین کو اعتراض ہے ۔ حال ہی میں پارٹی میں شامل مختلف جماعتوں کے قائدین کو عہدے اور دوسری ذمہ داریوں میں ان پر ترجیح دی جارہی ہے ۔ پارٹی میں جارحانہ موقف اختیار کرنے والوں کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ دوسری جماعتوں سے بی جے پی میں شامل قائدین بھی ناراض ہیں ۔ انہیں پارٹی میں آج تک بھی قبول نہ کرنے کی شکایتیں کررہے ہیں ۔ انتخابات سے عین قبل تینوں پارٹیوں کے اندرونی جھگڑوں سے تینوں پارٹیوں کی قیادت فکر مند ہوگئی ہے اور اپنے اپنے پارٹی قائدین کو سمجھاتے اور مناتے ہوئے پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہونے کا عوام میں پیغام پہونچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دوسری طرف کانگریس اور ٹی آر ایس کے ناراض قائدین اور ان کی سرگرمیوں پر بی جے پی کی قیادت خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس کی سابق وزیر خاتون جو بہت پہلے بی جے پی میں شامل ہوگئی ہیں وہ کانگریس کے ناراض قائدین سے رابطہ بناتے ہوئے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دے رہی ہیں ۔ ساتھ ہی ٹی آر ایس کے ایک سابق وزیر جنہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے وہ بھی سرگرم ہوگئے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے قائدین سے اپنے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر ان سے رابطہ بناتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے کا انہیں مشورہ دے رہے ہیں ۔ بی جے پی نے جہاں آپریشن کمل کا آغاز کردیا ہے وہیں کانگریس اور بی آر ایس کی قیادت پارٹی میں پیدا ہوئے تنازعات کو چائے کی پیالی کا طوفان قرار دے رہے ہیں اور سب کچھ درست ہوجانے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔۔ ن