اونٹوں کی زبان ’’ الحداء ‘‘ یونیسکو کی فہرست میں شامل

   

ریاض : اونٹوں کے ساتھ رابطے کی زبان جسے ’لحداء کہا جاتا ہے کو یونیسکو کی غیر محسوس ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ زبان اونٹوں اور مملکت کے باشندوں کے درمیان گہرے روایتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ زبان ایک لوک ورثہ کے طور پر اونٹ اور ان کے مالکان کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ ’’الحذاء‘‘ کے تاریخی سفر میں ہنر مند چرواہا اپنی آواز کا استعمال کرتے ہوئے اونٹوں کو پرسکون کر سکتا ہے اور انہیں صحرا کی وسیع ریت سے گزر کر اپنے حکم کی تعمیل پر راغب کرسکتا ہے۔ اس طرح صحرا کی تاریکی میں بھی یہ زبان ایک سہارا بن جاتی ہے۔ ریت کے ذروں پر، حدی خواہوں کے نعروں اور بدوؤں کے گیتوں کی گونج، نعرے کے بعد آواز یا اونٹ کی پکار کی محض سرگوشی شاعرانہ گانے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اونٹوں کی اس ’’ حدی‘‘ میں مٹھاس کو ملایا گیا ہے۔