اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کا آئندہ سماعت کے بعد فیصلہ

   

جی ایچ ایم سی کو اندرون ہفتہ جوابی حلف نامہ داخل کرنے عدالت کی مہلت
بااثر افراد کی جانب سے کئے جانے والے قبضوں کے نتیجہ میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے : ہائی کورٹ کا ریمارک
حیدرآباد۔4۔جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ آئندہ سماعت کے بعد فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کے متعلق فیصلہ سنائے گی ۔ جسٹس این وی شرون کمار نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو اندرون ایک ہفتہ جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی قطعی مہلت فراہم کی ہے۔فاطمہ اویسی اسکول بندلہ گوڑہ کو محکمہ تعلیم نے کوئی الحاق یا منظوری نہیں دی ہے اور نہ ہی اسکول کے لئے کوئی اجازت نامہ جاری کیاگیا ہے۔ اویسی اسکول آف ایکسلنس بندلہ گوڑہ کی تعمیرات اور تالاب پر کئے گئے قبضہ کے سلسلہ میں جاری تلنگانہ ہائی کورٹ کے مقدمہ میں سماعت کے دوران محکمہ تعلیم نے داخل کئے گئے جواب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اویسی اسکول آف ایکسلنس کو کوئی اجازت مذکورہ عمارت یا پتہ پر جاری نہیں کی گئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک گھنٹہ سے زائد ہوئی سماعت کے دوران محکمہ تعلیم کی جانب سے داخل کئے گئے حلف نامہ پرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے استفسار کیا کہ ’سلکم چیروو‘ تالاب پر تعمیراتی اجازت کس نے دی ہے جس پر جی ایچ ایم سی کے اسٹینڈنگ کونسل نے عدالت سے تفصیلات اور حلف نامہ کے ادخال کے لئے وقت طلب کیا۔تلنگانہ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران محکمہ تعلیم کے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے جو جواب داخل کیا ہے اس کے مطابق مذکورہ عمارت میں کوئی اسکول کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ جونیئر کالج اور ڈگری کالج کے سلسلہ میں استفسار پر محکمہ کے اسٹینڈنگ کونسل نے بتایا کہ اس کا جواب ہائر ایجوکیشن کی جانب سے دیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ’فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس‘ میں اسکول چلانے کے لئے کوئی اجازت نہیں دی گئی۔مسٹر وجئے گوپال ایڈوکیٹ جو کہ ’سلکم چیروو‘ پر قبضہ اور کی گئی غیر جاز تعمیرات کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے رٹ درخواست داخل کئے ہیں ۔ اس مقدمہ کی گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس این وی شرون کمار نے محکمہ مال ‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق ‘ حیڈرا‘ کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کو 3جولائی کی سماعت سے قبل جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن محکمہ تعلیم کے علاوہ کسی اور محکمہ کی جانب سے جواب داخل نہیں کیاگیا ۔ بتایاجاتاہے کہ مباحث کے دوران درخواست گذار وکیل نے فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کی عمارت میں اسکول کی اجازت نہ دیئے جانے کے حلف نامہ کی بنیاد پر عمارت کو فوری طور پر مہربند کرنے کی اپیل کی جس پر عدالت نے جی ایچ ایم سی سے استفسار کیا کہ آیا اس عمارت کو تعمیری اجازت دی گئی تھی یا نہیں !جی ایچ ایم سی کے اسٹینڈنگ کونسل نے جواب داخل کرنے کے لئے مزید وقت طلب کیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اندرون ایک ہفتہ جواب داخل کیا جائے بصورت دیگر عدالت قطعی فیصلہ صادر کرے گی۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے ’سلکم چیروو‘ پر کی جانے والی تعمیرات کے مستقبل کے متعلق مقدمہ کی سماعت 9 جولائی کو مقرر کی ہے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے ریاست میں جاری SIR کے علاوہ مردم شماری کے عمل کو بنیاد بناتے ہوئے 4ہفتہ تک کا وقت فراہم کرنے کی خواہش کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بااثر افراد کی جانب سے کئے جانے والے قبضہ جات کے نتیجہ میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے ۔3/a/b