قرآن و حدیث کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کیلئے اُردو سیکھنا ضروری ، جامع مسجد صالح نگر میں تقریب ، مولانا صدام حسین ، جناب ریاض علی رضوی و دیگر کا خطاب
کریم نگر۔9اگست(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اُردو زبان صرف مسلمانوں کی زبان نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی اور ادبی زبان ہے، اُردو کے دامن میں ہمارا قیمتی مذہبی و تہذیبی اثاثہ بھی محفوظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلع حج سوسائٹی کریم نگر کے صدر اور مولانا آزاد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر ریاض علی رضوی نے جامع مسجد صالح نگر، کریم نگر میں منعقدہ انجمن پروگرام سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تلگو اور انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں اردو زبان کے فروغ کے مقصد سے تقریباً پانچ سال قبل ’’آؤ اُردو سیکھیں‘‘ پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت کریم نگر، صالح نگر اور رائیکل منڈل میں اس کے تین مراکز کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہر مرکز سے ہر سال اوسطاً 60 سے زائد طلبہ و طالبات اردو سیکھ کر عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ، روزنامہ سیاست کے تحت منعقد ہونے والے اردو دانی، اردو زبان دانی اور انشاء کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس موقع پر کامیاب طلبہ و طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ملت کے نونہالوں نے جس انداز میں دینی تعلیم کا مظاہرہ پیش کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے جامع مسجد صالح نگر کے متولی سالم بن شیخان، صدر مسجد الحاج سعید الدین اور تمام اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجرِ عظیم کی دعا کی۔اس موقع پر حافظ و قاری مولانا صدام حسین، امام و خطیب مدینہ مسجد، رائیکل منڈل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم کو ختم کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کی زبان کو ختم کیا جاتا ہے، اور افسوس کہ ہمارے ملک میں بھی اردو زبان کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان ہے۔مولانا صدام حسین نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کیساتھ اردو زبان سیکھنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں، تاکہ وہ قرآن و حدیث کے مفاہیم کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور قرآن مجید کی تلاوت معانی و مفہوم کے ساتھ کرسکیں۔مسعود علی اکبر، جنرل سیکریٹری مولانا آزاد سوسائٹی و پروگرام کوآرڈینیٹر نے بھی طلبہ و طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے دینی و تعلیمی مظاہرے کو قابلِ ستائش قرار دیا۔پروگرام میں بطور اعزازی مہمان شاہد احمد، شمیم احمد، حافظ عبد الکریم، محمد اقبال اور ڈاکٹر خطیب الدین نے شرکت کی۔ حافظ احمد، حافظ ساجد انصاری اور مؤذن اعجاز نے مہمانوں کا استقبال کیا۔پروگرام میں 50 سے زائد طلبہ اور 50 سے زائد طالبات نے شرکت کی۔ کامیاب طلبہ و طالبات میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔پروگرام کی سرپرستی سالم بن شیخان نے کی، جبکہ صدارت صدر جامع مسجد صالح نگر الحاج سعید الدین نے انجام دی۔