کانگریس رکن ناصر حسین کا الزام، صدرنشین جے پی سی جگدمبیکا پال حکومت کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں
(وقف ترمیمی بل 2024 )
حیدرآباد ۔27۔جنوری (سیاست نیوز) وقف ترمیمی بل 2024 کی پارلیمنٹ میں پیشکشی کیلئے نریندر مودی حکومت کافی عجلت میں ہے۔ اس بات کا اندازہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدرنشین جگدمبیکا پال کے یکطرفہ رویہ سے ہوتا ہے۔ اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بجٹ سیشن کے دوران رپورٹ پیش کرنے کی مہلت دی ہے اور اپوزیشن ارکان کا ماننا ہے کہ مذاکرات غیر مختتم ہے، لہذا کمیٹی کی میعاد میں مزید توسیع دی جائے۔ پارلیمانی کمیٹی کے صدرنشین جگدمبیکا پال نے برسر اقتدار پارٹی ارکان کی اکثریت کی بنیاد پر اپوزیشن ارکان کی ترمیمات کو مسترد کردیا۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ناصر حسین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل اور ساری کارروائی محض ایک دھوکہ ہے۔ حکومت وقف ترمیمی بل 2024 کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں منظور کرنے کی تیاری میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے دباؤ میں کام کرنے والے جگدمبیکا پال نے کمیٹی کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے وقف ترمیمی بل کے بارے میں رائے حاصل کرنے کے لئے ملک بھر میں اسٹیک ہولڈرس کو مدعو کیا گیا تھا اور 98 فیصد اسٹیک ہولڈرس نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ ناصر حسین نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے اسٹیک ہولڈرس کو جو سوالنامہ روانہ کیا تھا، ان کے جواب داخل کرنے کیلئے 10 تا15 دن کی مہلت دی گئی اور جو جوابات موصول ہوئے ہیں، وہ ارکان کو سربراہ نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے طریقہ کار کے مطابق بل کے ہر سیکشن پر مباحث کے بعد ہی رپورٹ کو قطعیت دی جاتی ہے لیکن صدرنشین جگدمبیکا پال نے مباحث کی اجازت نہیں دی۔ کمیٹی کے روبرو رائے پیش کرنے والے افراد اور اداروں کے موقف کے بارے میں تفصیلات سے ارکان کو واقف نہیں کرایا گیا ہے ۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے کمیٹی کے ارکان کو کارروائی سے متعلق تفصیلات سے واقف نہیں کرایا گیا۔ ناصر حسین کے مطابق ارکان کو ترمیمات پیش کرنے کیلئے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی اور ارکان نے جب ترمیمات پیش کیا تو مباحث کے بغیر ہی اکثریتی رائے کی بنیاد پر اپوزیشن کی تمام ترمیمات کو مسترد کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مباحث کے بعد ہی ترمیمات پر ووٹنگ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی کارکردگی جمہوری اصولوں اور پارلیمانی کمیٹی کے شرائط کے خلاف ہے۔ صدرنشین جگدمبیکا پال حکومت کے دباؤ میں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ وقف ترمیمی بل کو منظوری دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اپوزیشن ارکان نے مباحث کی مانگ کی لیکن اجازت نہیں دی گئی۔ جس طرح پارلیمنٹ میں بل پیش کیا گیا ، اسی طرح تبدیلی کے بغیر ہی بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرنے کی تیاری ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا سارا عمل محض ایک دکھاوا اور دھوکہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر جمہوری اور یکطرفہ فیصلوں کے خلاف اپوزیشن ارکان نے کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔1