ہنڈنبرگ ادارہ نے اڈانی کے خلاف سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز اڈانی-ہنڈنبرگ تنازعہ کی تحقیقات کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) سے ہٹاکر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے حوالے کرنے کی عرضی خارج کردی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا اور منوج مشرا کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات کسی دوسری ایجنسی کو سونپنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔بنچ نے پہلے سے تحقیقات کرنے والی ماہرین کی کمیٹی کے ارکان کے خلاف مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ، SEBI کو تین ماہ کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔بنچ کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت کا SEBI کے ریگولیٹری فریم ورک میں مداخلت کا اختیار محدود ہے ۔انہوں نے کہا کہ SEBI نے 22 میں سے 20 معاملات میں تفتیش مکمل کر لی ہے ۔ سالیسٹر جنرل کی یقین دہانی کا نوٹس لیتے ہوئے ، “ہم SEBI کو تین ماہ کے اندر دیگر دو معاملات میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔”بنچ نے گزشتہ سال 24 نومبر کو کہا تھا کہ وہ اڈانی گروپ کے خلاف ہنڈنبرگ کی رپورٹ کو واقعی طور پر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے اس نے SEBI سے تحقیقات کرنے کو کہا تھا۔بنچ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ محض میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اور اس کے احکامات سے متاثر ہونے والے اداروں کی بات سنے بغیر تحقیقات کا حکم نہیں دیا جا سکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور SEBI سے بھی کہا ہے کہ وہ ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کیلئے ماہرین کی کمیٹی قائم کرنے پر غور کریں۔