اگر جگہ کی کمی ہے تو نماز سڑک پر پڑھنے میں کیا مسئلہ ہے؟

   

نماز سے متعلق چیف منسٹر یوگی کے بیان پر اکھلیش یادو کا رد عمل

لکھنؤ۔19؍مئی ( ایجنسیز)سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے چیف منسٹر یوپی یوگی آدتیہ ناتھ کے نماز سے متعلق بیان پر کہا کہ سڑکوں پر کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے اس کیلئے قواعد و ضوابط موجود ہیں لیکن اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی سب سے ’ادھرمی‘ (جو مذہب کو نہیں مانتی) ہے تو وہ بی جے پی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ حال ہی میں بار ایسوسی ایشن کے ممبران احتجاج کرنے نکلے تھے جن کے ہاتھوں میں ’رام چرتر مانس‘ تھی، پھر بھی ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی خود کو سناتن کی پیرو کار مانتی ہے تو اسے ’’واسودیو کٹمبکم‘‘ کی روح پر چلنا چاہیے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار 18 مئی کو’ امر اجالا‘ کے ایک پروگرام میں کہا کہ اتر پردیش میں سڑکوں پر نماز نہیں ہونے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں ٹریفک کیلئے ہیں اور کسی کو بھی چوراہوں یا سڑکوں کو بلاک کرکے عوامی زندگی کو متاثر کرنے کا حق نہیں ہے۔ یوگی نے کہا کہ نماز کیلئے مخصوص مقامات موجود ہیں اور لوگوں کو وہیں جاکر عبادت کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے تو وہ شفٹوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبادی کنٹرول کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وسائل اور جگہ محدود ہے تو آبادی بڑھانے پر بھی غور کرنا چاہیے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ قانون کے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں انہیں اصول و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نماز پڑھنے سے نہیں روک رہی تاہم سڑک پر مذہبی اجتماعات یا رکاوٹیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں عام شہریوں، مریضوں، ملازمین اور کارکنوں کے لیے ہیں، اس لیے ٹریفک میں خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگ بات چیت اور سمجھانے سے مان جائیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر نہیں مانیں گے تو حکومت سختی سے بھی نپٹے گی۔ بریلی کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے یوگی نے کہا کہ وہاں لوگوں نے ہاتھ آزمانے کی کوشش کی تھی اور حکومت کی طاقت بھی دیکھ لی۔ ان کے مطابق حکومت ہر نظام کو امن و امان کے دائرے میں لانا چاہتی ہے۔