ایران جوہری پروگرام کے مکمل جائزے پر رضامند

   

آبنائے ہرمز بحال ہوگئی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن۔23؍جون ( ایجنسیز )امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران احتجاج کے باوجود جوہری پروگرام کی مستقبل میں اعلیٰ سطح کے جائزے کے لیے مکمل طور پر راضی ہوگیا ہے اور آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر بحال ہوگئی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران جوہری پروگرام کے جائزے پر تیار نہیں ہوتا تو پھر مزید کوئی مذاکرات نہ ہوتے۔ ایران کی جانب سے دی گئیں اسی اور دیگر اہم رعایتوں کی بنیاد پر میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہوا جس کے ساتھ مزید بحری ناکہ بندی بھی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تمام جہاز بدستور اپنی جگہ موجود رہیں گے تاکہ اگر ناکہ بندی کی بحالی ضرورت پڑے تو آسانی ہو مگر اس وقت مکمل طور پر ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایران کے منجمد اثاثے غذائی اجناس اور ادویات کی خریدار کیلئے استعمال ہوں گے، جو صرف امریکہ سے ہوگا اور اس میں امریکہ کے عظیم کسانوں سے مکئی، گندم اور سویابین شامل ہے۔

ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ رابطہ ملکی قوانین سے مشروط
تہران۔ 23 جون (یو این آئی) امریکہ سے مذاکرات کے دوران ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) سے متعلق بڑا اعلان کر دیا ہے ۔ ایک جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل کر لیے گئے ہیں، اس کے ساتھ ہی ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ رابطہ کو ملکی قوانین سے مشروط کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات میں جوہری پروگرام سے متعلق نیا معاہدہ یا وعدہ نہیں کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ رابطہ کو ملکی قوانین سے مشروط کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئی اے ای اے انسپکٹرز کی واپسی سے متعلق ایران نے فی الحال کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایٹمی ایجنسی سے تعاون ایرانی پارلیمنٹ اور نیشنل کونسل کے قوانین کے تحت ہی ہوگا۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان میں مستقبل میں ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا امکان رد نہیں کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئی اے ای اے انسپکٹرز کو دوبارہ آنے کی اصولی منظوری دے چکا ہے ۔