ایران میں مظاہروں پر پہلی سزائے موت

   

تہران:ایران میں زیرحراست لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت کیخلاف مظاہروں پر پہلی سزائے موت دے دی گئی۔میڈیا کے مطابق محسن نامی شخص کو پھانسی کی سزا دی گئی، انقلابی عدالت نے اسے ’خدا سے دشمنی‘ کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ مظاہروں کے دوران تہران میں ایک سڑک بند کرنے اور ایک سکیورٹی گارڈ کو چاقو سے زخمی کرنے میں ملوث تھا۔ انسانی حقوق کے کارکن نے شناخت خفیہ رکھتے ہوئے بتایا کہ تفتیش کے دوران محسن کو اس کے وکیل سے بھی ملنے نہیں دیا گیا، پھانسی سے قبل اس کا مبینہ طور پر جبراً کیا گیا اقبال جرم سرکاری میڈیا پر نشر کیا گیا۔ کارکن کا مزیدکہنا تھا کہ حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث 10 مزید افرادکو انقلابی عدالت نے ’خدا سے دشمنی‘ اور فساد فی الارض کا مرتکب قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی ہے۔