ایران میں معاشی بحران کے اندیشے ‘ عوام اور حکام کو متحد رہنے صدرپیزیشکیان کا مشورہ

   

تہران5 ستمبر (یو این آئی) ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ امریکی اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں ایرانی حکام اور عوام متحد رہیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد ملک میں اختلاف اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کو غیر مؤثربنانے کافی ہے ۔امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف اکنامک ڈی ڈے کا اعلان کیا تھا، جو واشنگٹن کی تاریخ میں پابندیوں کی سخت ترین نظام قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کا مقصد ان تمام اقتصادی ذرائع کو ختم کرنا ہے جو ایرانی حکومت اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو برقرار رکھتے ہیں۔پیزشکیان نے کہا کہ اقتصادی اقدامات حکومت کو اچانک پالیسی تبدیلیوں پر مجبور نہیں کریں گے ، کیونکہ اس سے ملک میں مزید بدامنی پیدا ہو سکتی ہے ۔صدر نے کہا کہ جنگ ناکہ بندی و پابندیوں کے ذریعے دشمن ملک کے اندر تقسیم، دراڑیں اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔صدر نے ٹیلی ویژن پر گفتگو کے دوران ملک کو خبردار کیا تھا کہ لوگ اب انتہائی نازک حالت میں ہیں؛ اگر میں مزید دباؤ ڈالتا ہوں تو وہ حد سے گزر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت آئندہ ہفتوں میں نجی گاڑیوں کیلئے پٹرول کے 3 کوٹہ میں سے ایک کی قیمت دگنی کرے گی اور ماہانہ پٹرول کوٹے میں کمی کرے گی۔ایران کو اب بھی ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے ، تاہم صدر کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں وسیع پیمانے پر کوئی بھی اضافہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھا دے گا اور پہلے سے بے قابو مہنگائی میں اضافہ کریگا، جس سے ایرانی عوام متاثر ہو رہے ہیں ۔ ایران کی قومی کرنسی کی قدر ہفتے کو کاروباری ہفتے کے آغاز پر تہران کی مارکیٹ کھلتے ہی تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت 2.25 ملین ریال سے تجاوز کر گئی۔دریں اثنا، ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی محاذ آرائی، جو تہران کی موجودہ اقتصادی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بنی ہوئی ہے ، کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ۔امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب ایک آئل ٹینکر پر بمباری کی، یہ کارروائی جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوںکے بعد کی گئی۔واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی برآمدات روکنے بحری ناکہ بندی کے تحت ایران کے جنوبی ساحلوں سے ایرانی آئل ٹینکروں کو روانہ ہونے سے روک دیا ۔ایرانی حکومت نے کہا کہ اگر امریکہ بھی ایسا کرتا ہے تو وہ جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان یادداشت مفاہمت کے وعدوں پر واپس آئے گی، تاہم یہ معاہدہ کچھ عرصے بعد ناکام ہوگیا تھا۔مسلسل بڑھتے دباؤ اور عوامی بے چینی کے باعث حالیہ ہفتوں میں ایرانی حکام نے ملک میں ممکنہ عوامی بدامنی کے حوالے سے متعدد انتباہ جاری کیے ہیں۔اگست کے آخر میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے انٹلی جنس ڈائرکٹوریٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادیوں نے ایرانی عوام کو احتجاج پر مجبور کرنے اندرونی دباؤکی حکمت عملی اختیار کرلی ہے ۔