جنگی تاریخ کا سب سے ظالمانہ موت کا مشن ۔ پینٹاگون میں ہلچل
حیدرآباد ۔ 6 مئی ۔ ( سیاست نیوز) بین الاقوامی دفاعی حلقوں میں اُس وقت کھلبلی مچ گئی جب یہ رپورٹ سامنے آئی کہ ایران آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئے ’’خودکش ڈولفنز‘‘ کے استعمال پر غور کررہا ہے ۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران دنیا کی ذہن ترین سمندری مخلوق کو بارودی سرنگوں سے لیس کرکے دشمن کے جہازوں کو تباہ کرنے کی حکمت عملی تیار کررہا ہے ۔ عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے اہم ترین راستہ آبنائے ہرمز اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایران ان ڈولفنز کو ’’کامیکاز‘‘ ( خودکش ) حملوں کیلئے استعمال کرسکتا ہے کیونکہ ان کا قدرتی سونار سسٹم اُنھیں جدید ترین دفاعی ریڈاروں سے بچ کر خاموشی سے ہدف تک پہونچنے میں مدد دیتا ہے ۔ اس متنازعہ پروگرام کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2000 ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایران نے روس سے خصوصی تربیت یافتہ ڈولفنز خریدی تھیں۔ سوویت بحریہ ان جانوروں کو دشمن کے غوطہ خوروں کا پتہ لگانے اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کیلئے استعمال کرتی تھی ۔ اب ان پرانے جنگی جانوروں کو دوبارہ فعال کرنے کی خبروں نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فی الحال ان رپورٹس پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ایران کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی کے ٹھوس شواہد نہیں ہیں ۔ دوسری جانب دفاعی ماہرین اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اسے ایک ظالمانہ جنگی حربہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بے زبان مخلوق کو خودکش بمبار کے طورپر استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف بین الاقوامی ضوابطے اور قواعد کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ انسانیت کیلئے ایک سیاہ باب ثابت ہوگا ۔ 2/A/b