واشنگٹن : امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ممکنہ حملے کے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ آسٹن اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے فون پر بات کی۔بتایا گیا ہے کہ اس دوران آسٹن اور گیلنٹ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔بیان میں امریکی وزیر نے کہا کہ “ہم ایران کے ممکنہ حملے کے منصوبوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اسرائیل اور اپنے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے خطے میں اچھی طرح سے تعینات ہیں۔”بتایا گیا کہ فریقین نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاملات پر بھی بات چیت کی۔آسٹن نے اعلان کیا تھا کہ جوہری ایندھن سے چلنے والے یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہازجس پر F-35C لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں، کو مشرق وسطیٰ میں اپنی ذمہ داری کے علاقے کی طرف روانگی کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈروں میں سے ایک فواد شکر پر اسرائیل کے فضائی حملے اور ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کیسیاسی بیورو چیف اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ھنیہ کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرانے والے ایران اور لبنانی حزب اللہ نے ا تل ابیب کو جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔