ایرانی حکومت مظاہرین سے نمٹنے پر منقسم :تجزیہ کار

   

تہران : ایران میں کئی ماہ سے جاری احتجاج کو دبانے کے لیے اپنائی گئی پالیسی پر حکومت منقسم دکھائی دیتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کی نظر میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسی میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اندرونی سطح پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔امریکی یونیورسٹی ڈینور میں سینٹر برائے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر نادر ہاشمی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت سے متضاد پیغامات مل رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے حکومت کے اندر بھی ایک بحث چل رہی ہے کہ مظاہرین سے کیسے نمٹا جائے۔انہوں نے کہا کہ اکثر آمرانہ حکومتوں میں جارحانہ یا معتدل پالیسیوں کی حمایت کرنے والے دونوں طرح کے افسران پائے جاتے ہیں۔پھانسی کی سز ا سنائے گئے متعدد مظاہرین کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے اور احتجاج میں شریک ہونے والی چند اہم شخصیات کی رہائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ حکومتی عہدیدار نرم پالیسی کے حامی ہیں۔لیکن سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث دو افراد کو پھانسی دیے جانے سے واضح ہے کہ سخت پالیسی کا حامل حکومتی دھڑہ بھی سرگرم ہے۔16 ستمبر کو کرد ایرانی شہری مہسا امینی کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہلاکت کے بعد نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔