پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
اگر سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کچھ اظہارِ خیال کرتے ہیں تو سمجھئے کہ وہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے بولتے ہیں ، ایک قانون داں یا وکیل کی حیثیت سے راقم الحروف اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اگر دو معزز ججس عدالت کی طرف سے کچھ کہتے ہیں تو حقیقت میں سپریم کورٹ آف انڈیا ہی بول رہی ہوتی ہے ۔ جہاں تک سپریم کورٹ یا عدالت عظمیٰ کا سوال ہے یہ ایک دستوری عدالت ہے اور یہ آخری اپیلیٹ Appellate Court بھی ہے ۔ بعض معاملات میں سپریم کورٹ کو اصل دائرہ اختیار حاصل ہے اور ایک اہم بات عدالت عظمیٰ تمام عدالتوں پر نگرانی رکھتی ہے ، اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرسکتی ہے اور ان فیصلوں کو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے ۔ یہ Suo motu Action یعنی ازخود نوٹس بھی لے سکتی ہے ۔ اسے خصوصی تحقیقاتی ٹیم SIT یا ایک کمیشن بھی تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کو کوئی بھی معاملہ کی تحقیقات پولیس ایجنسی کے تفویض کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے ۔ کسی بھی دیوانی Civil اور تجارتی تنازع ثالثی یا مصالحت کیلئے ریفر بھی کرسکتی ہے ۔
عدالت عظمیٰ کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ وہ کسی مقدمہ کو ایک ریاست کی ہائیکورٹ سے دوسری ریاست کی ہائیکورٹ منتقل کرسکتی ہے ۔ میاں بیوی کے درمیان طلاق کا فیصلہ صادر کرسکتی ہے ، تو ہین عدالت پر سزا دینے کا اختیار بھی اُسے حاصل ہے جبکہ دستورہند کی اس کی تشریح قطعی اور فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے اور اسے مکمل انصاف کیلئے کوئی بھی حکم جاری کرنے کا اختیار ہے ۔ غرض سپریم کورٹ آف انڈیا کو ہندوستان کی سب سے طاقتور اور اعلیٰ عدالت کہا جاتا ہے ۔
عالمی بالغ حق رائے دہی : اس کے وسیع تر اختیارات میں ایک اختیار نمایاں ہے ۔ مثال کے طورپر ریاست مدراس بمقابلہ وی جی رو مقدمہ میں سپریم کورٹ نے خود کو Sentinel Qui Vive (حقوق کی نگہبان ) یا دستور کا چوکس محافظ قرار دیا ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخابات کے بارے میں آئین کیا کہتا ہے ۔٭ دستور کی دفعہ 324 الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فہرست رائے دہندگان کی تیاری ، اُن کی نگرانی ، رہنمائی اور کنٹرول کے ساتھ ساتھ پارلیمانی و ریاستی اسمبلیوں کے تمام انتخابات منعقد کرنے کا اختیار عطا کرتا ہے۔ ٭ دستور کی دفعہ 326 کے مطابق لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات ، بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے (ووٹ دینے کا حق ایک دستور حق ہے ۔ سپریم کورٹ ) اگر ہم ان دونوں دفعات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں کوئی تضاد نہیں۔ دستوری لحاظ سے دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ وہ ملک کے ہر بالغ شہری کو شامل کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان تیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ دستور شہریت ایکٹ 1955 اور قانون عوامی نمائندگی 1955 کے تحت شہریت اور رہائش جیسے دیگر شرائط بھی موجود ہیں ۔ ان قونین میں یہ طئے کرنے کیلئے مجاز اتھارٹی اور طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے کہ آیا کوئی شخص قانونی شرائط کی تکمیل کرتا ہے یا نہیں ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ عالمی بالغ حق رائے دہی کی بنیادی روح اور اس کا اصل شمولیت ہے ۔ انتخابی فہرست سے کسی شخص کے نام کا اخراج ( نام حذف کیا جانا ) ایک استثنائی اقدام ہے اور اسے مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا جانا چاہئے اور ایسا فیصلہ تحریری صورت میں ہونا چاہئے اور اُس پر عدالتی نظرثانی بھی ہوسکتی ہے ۔
دلچسپ مشاہدات : اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس بمقابلہ الیکشن کمیشن مقدمہ مورخہ 27 مئی 2026 ء ( بہار میں کئے گئے ایس آئی آر عمل کے تناظر میں ) کے دوران سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 2003 ء کی انتخابی فہرست جس کی اہلیتی تاریخ 01-01-2003 تھی اسے اہلیت کے ابتدائی ثبوت کے طورپر قبول کرنے کا فیصلہ کیا جب تک کہ اس کی تردید نہ ہوجائے ۔ جو شخص 2003 ء کی فہرست میں شامل نہیں ہے اسے بطور رائے دہندہ اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلئے ایک یا ایک سے زیادہ مقررہ دستاویزات پیش کرنی ہوگی ۔ اندرجیت بروا (1985) اور لال بابو حسین مقدمہ میں سپریم کورٹ نے واضح طورپر کہا تھا کہ فہرست رائے دہندگان میں شامل ناموں کو شہریت کے مفروضہ کا حق حاصل ہے ۔ جانچ یا تنقیع کے بعد کسی شخص کی اہلیت مشکوک پائی جائے تو ای آر او ؍ اے ای آر او کو ہدایت دی گئی کہ وہ مجوزہ اخراج ( حذف کئے جانے ) کی وجوہات بیان کرتے ہوئے نوٹس وجہ نمائی جاری کرے ۔ ERO کے فیصلہ سے متاثرہ شخص کو قانون عوامی نمائندگی 1969 ء کی دفعہ 24(a) کے تحت ضلع مجسٹریٹ کے سامنے اپیل کا حق حاصل ہوگا ۔ دوسری اپیل دفعہ 24(b) کے تحت ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر CEO کے سامنے دائر کی جاسکتی ہے ۔ الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کی تیاری یا نظرثانی کے دوران شہریت سے متعلق سوالات کی تنقیع کرنے کا بلاشبہ اختیار رکھتا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سارے عمل پر نظرثانی کی جاسکتی ہے ۔ فیصلے میں یہ بات خاص طورپر نوٹ کی گئی کہ ریاست بہار میں SIR عمل کا نتیجہ 2003 ء کی فہرست رائے دہندگان سے تقریباً 47 لاکھ لوگوں کے نام حذف کئے جانے کی شکل میں نکلا ۔ بہار میں ہر سو بالغ افراد میں سے 6 افراد کے نام قطعی یا حتمی فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے ۔
بہار میں ایس آئی آر مقدمہ میں فیصلہ صادر کرنے سے قبل ہی مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیا اور مکمل بھی کردیا گیا اور کئی لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے ۔ وہاں اڈھاک جوڈیشل آفیسر کے ذریعہ سپریم کورٹ سے منظورہ عدالتی جائزہ بھی لیا گیا ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا اور سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹس کے مطابق خاص طورپر مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے پہلے مرحلہ میں متوفی رائے دہندوں ، فرضی رائے دہندوں ، دوسرے مقامات منتقل ہونے والے رائے دہندوں جن کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے اُن کی تعداد 63.16 لاکھ رہی ہے ۔
Summary Review کے بعد حذف کئے گئے نام اور وہ بھی زیادہ تر منطقی تضادات یا خامیوں کی بنیاد پر 27.16 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔ اس طرح مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جملہ 90 لاکھ 83 ہزار لوگوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیا ۔ دوسری جانب اڈھاک جوڈیشیل آفیسروں کے روبرو جو اپیلیں دائر کی گئیں اُن کی تعداد تقریباً 25 لاکھ بتائی گئی ۔ 14 مئی 2026 ء تک جن اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے یکسوئی کی تھی اُن کی تعداد 6581 ، جن اپیلوں کو قبول کرکے نام فہرست رائے دہندگان میں بحال کئے گئے ان کی تعداد 4043 رہی جبکہ کامیابی کا اوسط 61.43 فیصد رہا ۔ مغربی بنگال واحد ایسی ریاست ہے جہاں سپریم کورٹ کی ہدایت پر جوڈیشل رویو ( حذف کردہ ناموں کے ضمن ) میں کیا گیا ۔ بہار جیسی ریاست میں ایسا نہیں کیا گیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہیکہ بہار کے کم از کم 2887210 افرادجنھیں ووٹ دینے سے روکا گیا بہار کی فہرست رائے دہندگان میں دوبارہ شامل کئے جانے کے مستحق تھے ۔ یہ نتیجہ الیکشن کمیشن کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے ۔ ایس آئی ار میں بے شمار غلطیوں کا ارتکاب کیا گیا ۔ اس کا عمل غیرمعتبر رہا ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ان حرکتوں کے بعد کیا جمہوریت اپنی بقاء کو یقینی بنائے گی ؟