ایس آئی آر کے ذریعہ فہرست رائے دہندگان سے نام حذف یا سازش

   

سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کی مثالیں ، تجزیہ نگاروں کا کھل کر اظہاایس آئی آر کے ذریعہ فہرست رائے دہندگان
سے نام
حذف یا سازش

سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کی مثالیں ، تجزیہ نگاروں کا کھل کر اظہار خیال
ر خیال

حیدرآباد۔ 6۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) فہرست رائے دہندگان میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نگرانی میں جاری S.I.R کے ذریعہ صرف رائے دہندوں کے نام حذف کئے جا رہے ہیں یا منصوبہ بند سازش کے ذریعہ سیاسی حریفوں کو شکست سے دوچار کیا جا رہا ہے!S.I.R میں رائے دہندوں کو حذف کرتے ہوئے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنائے جانے کی کئی مثالیں سامنے آچکی ہے جن میں تین چیف منسٹرس کی شکست بھی شامل ہے۔ ملک میں 5ریاستوں کے انتخابی نتائج کے ساتھ ہی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور چیف منسٹر س کو ان کے اپنے حلقہ جات اسمبلی میں ہی شکست اور ایس آئی آر کے دوران حذف کئے گئے ناموں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ اروند کجریوال‘ ممتا بنرجی اور ایم کے اسٹالن کی ان کے اپنے حلقہ جات اسمبلی سے شکست کے معاملہ کو پیش کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ان سرکردہ سیاسی قائدین کی شکست کی وجہ S.I.R ہے جنہیں ان کے حلقوں میں رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کرتے ہوئے شکست سے دوچار کیاگیا ہے۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے اعداد و شمار پیش کرنے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان قائدین کے حلقہ جات اسمبلی سے جتنی تعداد میں رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیا گیا ہے اس سے کم تعداد میں ووٹوں سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ممتا بنرجی کے حلقہ
انتخاب بھوانی پور سے ممتا بنرجی کو 15ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے حلقہ اسمبلی سے ایس آئی آر کے دوران مجموعی طور پر 51 ہزار رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیاگیا تھا ۔ اسی طرح ایم کے اسٹالن کے حلقہ اسمبلی میں 1لاکھ 2ہزار رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کرتے ہوئے انہیں ووٹ کے حق سے محروم کیاگیا جبکہ ایم کے اسٹالن کو جو کہ تمل ناڈو کے چیف منسٹر تھے انہیں 8795 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔دہلی میں ہوئے گذشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نگرانی میں دہلی میں ایس آئی آر کا عمل مکمل کرنے کے نام پر سابق چیف منسٹر اروند کجریوال کے حلقہ انتخاب سے 38 ہزار رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیاگیا تھا اور ان کی شکست 4000 ووٹوں سے ہوئی لیکن عام تاثر یہ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ان چیف منسٹرس کو عوامی ناراضگی کے سبب شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ درحقیقت ان چیف منسٹرس کی شکست پر S.I.R کے واضح اثرات نظر آرہے ہیں۔3/m/b