پرتاپ گڑھ ۔ اترپردیش میں پرتاپگڑھ ضلع کے تھانہ کوتوالی لال گنج پولیس نے گزشتہ شب دوران علاج میڈیکل کالج میں ہوئی نائب ناظر کی موت کے معاملے میں تحصیل لال گنج کے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سمیت چار لوگوں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کیا ۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ستپال انتل نے آج بتایا کہ تھانہ کوتوالی لال گنج پولیس کو سدھیر شرما نے شکایت دے کر الزام عائد کیا ہے ،کہ اس کے والد سنیل کمار شرما 57 تحصیل لال گنج میں نائب ناظر کے عہدے پر تعینات تھے ۔جہاں چھہ ہزار اینٹ کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر اس کے والد کی سرکاری رہائش گاہ میں گزشتہ 30/ مارچ کی شب سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گیانندر وکرم سنگھ اپنے مزید تین ساتھیوں کے ساتھ گھس کر ڈنڈے سے مار پیٹ کر شدید طور سے زخمی کر دیا ۔وہیں شدید طور سے زخمی اس کے والد کو لال گنج اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا، ڈاکٹروں نے نازک حالت دیکھتے ہوئے میڈیکل کالج پرتاپگڑھ ریفر کر دیا ،دوران علاج ہفتہ و اتوار کی شب موت ہوگئی ۔پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ایس ڈی ایم گیانندر وکرم سنگھ و تین نامعلوم سمیت چار ملزمان کے خلاف جرائم نمبر 210/22 دفعہ 302,308,323,452,504 تعزرات ہند کے تحت ایف آئی آر درج کر لاش کو پوسٹمارٹم کے لئے بھیجا ۔ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نتن بنسل نے بتایا کہ ایس ڈی ایم گیانندر وکرم سنگھ کو ضلع ہیڈکواٹر سے اٹیچ کر حکومت کو مکتوب ارسال کیا گیا ہے ۔ادھر ضلع ٹریڈ یونین کونسل کے صدر ہیمنت نندن اوجھا نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر معاملے کو دبانے میں کوشاں لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔