’ایسا کوئی نہیں ہے جسے کانگریس نے دھوکہ نہ دیا ہو ‘

   

استحکام بمقابلہ عدم استحکام کے موضوع پر وزیراعظم نریندر مودی کا جلسہ سے خطاب

بنگلورو، 10 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم مودی نے اتوار کو کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے یہاں ایک عوامی جلسے میں “استحکام بمقابلہ عدم استحکام” کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی اور کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو کی مثال دیتے ہوئے کانگریس کی حکمرانی کی ناکامیوں اور اندرونی تضادات کو اجاگر کیا۔پی ایم مودی نے ایچ اے ایل ہوائی اڈے پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کے ووٹر کھیل نہیں بلکہ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں کے حالیہ انتخابی نتائج بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے تحت سیاسی استحکام اور فیصلہ کن حکمرانی کے لیے عوامی ترجیح کو ظاہر کرتے ہیں۔پی ایم مودی نے کرناٹک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت مسلسل اندرونی اقتدار کی کشمکش اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہا، وہ یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کب تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے ، سب کچھ معلق ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں نظم و نسق حکمراں جماعت کی دھڑے بندی اور سیاسی سودے بازی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے ۔کرناٹک کے بعد اپنے حملے کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کانگریس پر تنقید میں کیرالہ اور تمل ناڈو کو بھی شامل کیا اور کہا کہ جنوبی ریاستوں میں پارٹی کا کردار منظم حکمرانی سے زیادہ سیاسی موقع پرستی سے عبارت رہا ہے ۔تمل ناڈو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر اقتدار کے بدلتے سیاسی حالات میں اپنے پرانے اتحادیوں کو بار بار دھوکہ دینے کا الزام لگایا۔ اپنی تقریر کے سخت ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ایسا کوئی قریبی نہیں جسے کانگریس نے دھوکہ نہ دیا ہو۔انہوں نے کانگریس اور ڈی ایم کے کے تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور الزام لگایا کہ دہائیوں پر مشتمل سیاسی اتحاد کے باوجود کانگریس کا اپنے اتحادیوں کو سیاسی طور پر موزوں وقت پر چھوڑ دینے کا ایک طویل ریکارڈ رہا ہے ۔