ایفل ٹاور حجاب سے ڈھانپنے والے اشتہار پرغم و غصہ

   

پیرس : فرانس میں دو ہفتوں سے ایک اشتہار کے حوالے سے شدید غصے کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ یہ اشتہار اسلامی ملبوسات تیار کرنے والے ایک برینڈ (Merrachi) نے ’انسٹاگرام‘ پر جاری کیا تھا۔ اشتہار میں پیرس کے ایفل ٹاور کو حجاب سے ڈھانپا ہوا دکھایا گیا۔ ساتھ یہ تبصرہ کیا گیا کہ فرانس کی حکومت مرّاشی کی آمد نا پسند کرتی ہے۔ اس اشتہار نے فرانس میں ہنگامہ کھڑا کر دیا جہاں اسکولوں اور سرکاری محکموں میں حجاب پہننے پر پابندی ہے۔سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے تبصروں میں اپنے غصے کا اظہار کیا۔ انھوں نے حکومت مخالف اشتہار کو مارکیٹنگ کیلئے استعمال کیے جانے کو نا مناسب قرار دیا۔ صارفین کے نزدیک اس طرح کا اشتہار عداوت بھڑکا سکتا ہے اور اس سوچ کو فروغ دے سکتا ہے کہ حجاب باوقار ہے جب کہ ہم بے وقار ہیں۔اشتہار میں مذہب کی جانب اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ ثقافتی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک خاتون رکن پارلیمنٹ Lisette Pollet نے کہا کہ ایفل ٹاور کو اسلامی حجاب سے ڈھانپ دینا اس کی توہین ہے۔ واضح رہے کہ ”Merrachi” برینڈ آن لائن ملبوسات فروخت کرتا ہے۔ دو ہفتے قبل برینڈ نے پیرس کے ایک پوش علاقے میں اپنی شاخ کا افتتاح کیا۔ اس برینڈ کی مالک 26 سالہ مراکشی نژاد ڈچ خاتون ندی میراشی ہیں۔ اشتہار کے حوالے سے موقف لینے کیلئے ندی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔دنیا بھر میں اسلامی ملبوسات کی مارکیٹ کا حجم سالانہ 83 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ تیزی سے نمو پاتی مارکیٹ بن چکی ہے۔ توقع ہے کہ 2031 تک اس کی مارکیٹ کا سالانہ حجم کم از کم 130 ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گا۔