مفت تعلیم کے باوجود نوجوانوں میں انجینئرنگ کورسیس کے تعلق سے دلچسپی میں نمایاں کمی
حیدرآباد۔ تلنگانہ ایمسیٹ کونسلنگ کے پہلے مرحلے میں تمام شعبہ جات میں جملہ 50,288 نشستوں کا الاٹمنٹ ( داخلہ ) عمل میں آیا ہے ۔ ان میںصرف 3698 نشستیں مسلم اقلیتی طلبا کو الاٹ کی گئی ہیں۔ یہ جملہ نشستوں کا صرف 7.35 فیصد ہی ہے ۔ مسلم برادری کیلئے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ مسلم طلبا میں انجینئرنگ کورس کے تعلق سے دلچسپی میں کمی آتی جا رہی ہے جبکہ غیر مسلم طلبا مستحکم روزگار کے مواقع کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ کورسیس میں داخلے حاصل کر رہے ہیں ۔ حالانکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلم طلبا کو 100 فیصد فیس ری ایمبرسمنٹ فراہم کرتے ہوئے تعلیم دی جا رہی ہے تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم طلبا اس مفت تعلیم کے موقع سے بھی استفادہ نہیںکر رہے ہیں۔ دوسرے کورسیس جیسے بی اے ‘ بی کام اور بی ایس سی کے تعلق سے بھی مسلم طلبا میں دلچسپی میںاضافہ نہیں ہو رہا ہے ۔ ان کورسیس میں ملازمتوں کے مواقع زیادہ نہیں ہیںجتنے انجینئرنگ میں ہوتے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو سما ج میں معاشی عدم توازن پیدا ہوگا اور ہماری مسلم برادری اپنی گذر بسر کیلئے معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوجائے گی ۔ فی الحال دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ مسلم طلبا کیلئے دوسرے مرحلہ کی انجینئرنگ کونسلنگ میں حصہ لیتے ہوئے مفت تعلیم کے مواقع سے استفادہ کرنے کا موقع ہے ۔ حکومت نے انجینئرنگ میں کمپیوٹر سائینس انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت جیسے کورسیس بھی شروع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ نئے کورسیس میں ڈاٹا سائینس بھی شامل ہے ۔ ان کورسیس میںملازمتوں کے بہتر مواقع دستیاب ہیں اور ان کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے ۔