لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کے شہر زاہدان میں پاسداران انقلاب اور سیکوریٹی فورسز کی جانب سے نمازیوں اور عام شہریوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیان میں کہا کہ صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان میں نماز جمعہ کے بعد ایرانی سیکوریٹی فورسز نے بلوچ مظاہرین کیخلاف آپریشن کیا جس میں بچوں سمیت 80 افراد جاں بحق ہوئے۔ مسلح اہلکاروں نے شہریوں پر فائرنگ اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، بیشتر لوگوں کو سینے، سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں۔ مسلح اہلکاروں نے شہریوں پر فائرنگ اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، بیشتر لوگوں کو سینے، سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں۔ ایمنسٹی نے اسے خونریز جمعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں لڑکی مھسا امینی کی ہلاکت پر تین ہفتہ سے حکومت کیخلاف جاری حالیہ احتجاجی کی لہر میں یہ خونریز ترین دن تھا۔