کرناٹک میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ۔ ہندو طلباء کے احتجاج کا شاخسانہ
نئی دہلی : کرناٹک کے اوڈوپی میں جمعرات کو ایک اور گورنمنٹ اسکول نے اُن مسلم لڑکیوں کو کالج میں داخلہ سے روک دیا جو حجاب لگائی ہوئی تھیں یا برقعہ زیب تن کررکھا تھا ۔ نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق بھنڈارکرس کالج ، کونڈا پور (ضلع اوڈوپی ) کے پرنسپل نے اسٹوڈنٹس سے کہا کہ حکومت کے آرڈر اور کالج کے رہنمایانہ خطوط کے تحت انہیں کلاسیس میں شرکت کیلئے یونیفارم میں آنا پڑے گا ۔ طالبات نے استدلال پیش کیا کہ وہ طویل عرصہ سے کالج میں باحجاب داخل ہوتی رہی ہیں اور انہیں اب بھی اجازت دینا چاہئیے ۔ لیکن پرنسپال نے انہیں باہر کرتے ہوئے کالج کی گیٹ مقفل کرادی ۔ ایک روز قبل چہارشنبہ کو ’ احتجاج ‘ کے طور پر بعض ہندو اسٹوڈنٹس بھنڈارکرس کالج کو زعفرانی شالوں کے ساتھ آئے تھے ۔ انہیں باب الداخلہ پر روکا گیا تھا ۔ ان اسٹوڈنٹس نے ’ جئے شری رام ‘ کے نعرے لگائے ۔ سابق میں اوڈوپی کے ویمنس گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج نے ہی حجاب یا برقعہ والی طالبات کو داخلہ سے روکا تھا ۔ بتایا گیا ہے کہ ہندوتوا گروپوں کے دباؤ میں آکر کرناٹک کے مزید کالجس باحجاب یا برقعہ والی طالبات کو کالجوں میں داخلہ سے روکنے کی روش اختیار کررہے ہیں ۔