وزیرتعلیم کو برطرف کیا جائے، نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ شرمناک: راہول

,

   

وزیراعظم نریندر مودی طلبہ سے معافی مانگیں۔ روزگار کے محدود مواقع سے کروڑوں نوجوانوں کا کریئر داؤ پر ، اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس

نئی دہلی، 22 جولائی (ایجنسیز) لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے طلبہ کے مسائل پر آج یہاں اندرا بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت اور تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام نوجوانوں سے ناانصافی کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں متعدد پیپر لیک واقعات، مہنگی تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ پرامن احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف ایک منصفانہ اور قابل اعتماد تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں ان کی محنت اور صلاحیت کو اہمیت دی جائے۔ سابق صدر کانگریس نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں پیپر لیک کے کم از کم 152 واقعات سامنے آئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ایک بھی شخص کو سزا نہیں دی گئی۔ اترپردیش میں حلقہ لوک سبھا رائے بریلی کے نمائندہ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو منظر عام پر آئے ہیں، جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کئی کئی برس تک سخت محنت کرتے ہیں، لیکن امتحان سے قبل پیپر لیک ہونے کی خبر اُن کے خواب چکنا چور کر دیتی ہے۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک کے باعث تقریباً سات کروڑ طلبہ اور ان کے اہل خانہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط اور غریب طبقے کے خاندان اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، لیکن حکومت ان کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ مسٹر راہول نے تعلیمی نظام کو ’غیر منصفانہ اور ناقابل برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک امتحانNEET کی تیاری اور اس سے متعلق اخراجات پر خاندان تقریباً اتنی ہی رقم خرچ کرتے ہیں، جتنی حکومت پورے ملک کے تعلیمی بجٹ میں مختص کرتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال متوسط طبقے اور غریب خاندانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ کمزور ہو چکا ہے، کاروبار شروع کرنے کے لیے بینکوں سے قرض حاصل کرنا عام نوجوان کے لیے تقریباً ناممکن ہے، جبکہ نجی اور کارپوریٹ شعبوں میں بھی ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری ملازمتیں ہی نوجوانوں کی آخری امید رہ جاتی ہیں، لیکن وہاں بھی امتحانی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تین اہم مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے فوری طور پر ہٹایا جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ دھرمیندر پردھان ایک ناکام وزیر تعلیم ثابت ہوئے ہیں اور انہیں اس بحران کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طلبہ پر تشدد کرنے والے تمام افراد، خواہ وہ احکامات دینے والے ہوں یا ان پر عمل کرنے والے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر مبینہ زیادتیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ملک کے دشمن نہیں بلکہ مستقبل ہیں۔y/i