اسلام آباد ۔ 7 اگست (ایجنسیز) پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے روز تجارتی جہازوں پر باب المندب میں کیے گئے حملوں کی مذممت کی ہے اور ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کے مطابق تعاون کرنے کیلئے کمٹڈ ہے۔پاکستان ان 14 ملکوں میں شامل ہے جننہوں نے سعودی قیادت میں کثیر ملکی میری ٹائم دفاعی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ تجارتی جہازوں کو باب المندب سے محفوظ گزارنے میں کردار ادا کر سکیں۔باب المندب 20 میل چوڑی اور 70 میل لمبی آبنائے ہے جو بحیرہ عرب سے افریقی سمندروں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی آبنائے کے راستے عرب دنیا افریقہ تک پہنچتی ہے۔ باب المندب کے راستے دنیا کی تجارت کا 12 فیصد ممکن ہوتا ہے۔14 رکنی میری ٹائم دفاعی اتحاد کا اعلان گزشتہ ہفتے اس تناظر میں پیش آیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر سے سعودی جہازوں کو گزرنے سے روک رکھا ہے اور حوثی کئی سعودی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ترجمان نے کہا ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے خواہ سعودی عرب کے جہازوں پر ہوں یا کسی بھی ملک کے جہازوں پر۔ جہازوں کا بحفاظت گزرنا عالمی تجارت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
ترجمان طاہر اندرابی دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ان واقعات پر تبصرہ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور تجارتی جہازوں کے بحفاظت گزرنے کے تقاضوں کے خلاف ہے۔پاکستان اور سعودی عرب نے پچھلے سال ستمبر میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جن کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جائے گا۔طاہر اندرابی نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون جاری رہے گا۔ تاہم ترجمان پاکستان نے اس امر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا پاکستان نے اپنی بحری فورسز کو تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلئے متعلقہ علاقوں میں تعینات کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا مجھے اس طرح کی معلومات نہیں ہیں۔انہوں نے آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کو بھی ان کوششوں کیلئے نقصان دہ قرار دیا جو پائیدار معاہدے کیلئے مسلسل کی جا رہی ہیں۔ تاکہ بحران اور کشیدگی کو پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے سے روکا جائے۔