سابق وزیر محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد : سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے بابری مسجد شہادت مقدمہ کے فیصلہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے سابق وزیر محمد علی شبیر نے مرکز اور اترپردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرے۔ سی بی آئی عدالت نے شواہد کی کمی کی بنیاد پر تمام ملزمین کو بری کردیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 9 نومبر 2019 ء کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں بابری مسجد کی شہادت کو غیر قانونی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا جبکہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے برخلاف فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی عدالت نے صرف تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا اور انہیں ناقابل اعتبار قرار دیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہر جرم کا ویڈیو یا تصویر ہونا ضروری نہیں ہے ۔ عدالت میں صرف عینی شاہدین اور دیگر امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے۔ ایسے امور جس سے جرم ثابت ہوتا ہے ، ان پر غور نہیں کیا گیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی قائدین جنہوں نے 6 ڈسمبر 1992 ء کو بابری مسجد کی شہادت کا کھلے عام اعتراف کیا تھا، وہ آج خود کو بے گناہ اور بے قصور ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملزمین کی جانب سے مسجد کو بچانے کی کوششوں سے متعلق دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ میں بری ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انصاف مل چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ کے دیگر فریقین کو خصوصی عدالت کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہونا چاہئے ۔