کوٹہ : راجستھان کے کوٹہ میں اتوار کو نیٹ کے امتحانی مرکز میں چار مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ داخلہ دیا گیا ۔ اس پر بجرنگ دل اور وشواہندو پریشد کے وتھ ونگ نے پیر کو احتجاج کیا ہے ۔ وی ایچ پی کے پروپگنڈہ سربراہ رام بابو مالو نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جو مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ کالج کے سنٹر میں ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان (نیٹ یو جی 2022 ء) میں شرکت کیلئے جاتے ہیں ۔ یوتھ یونٹ کی جانب سے کوٹہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے ۔ بجرنگ دل کے شریک صوبائی کوآرڈینیٹر یوگیش رینوال نے کہا کہ امتحان کے قواعد کے مطابق طالب علم اور لڑکیاں پوری آستین میں بھی نہیں آسکتے ہیں ۔ بالی ، گھڑی اور دیگر تمام سامان باہر رکھنا چاہیے ۔ تاہم مسلم طالبات کو حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت دی گئی ، جب ہندو طالبات اور لڑکیاں پورے کپڑے پہن کر آئیں تو ان کی آستینیں بھی ہٹالی گئیں ۔
اگر مسلمانوں کی ’’خوشنودی‘‘ کی وجہ سے طالبات اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے تو حجاب کی حمایت میں لوگ کہیں گے کل سے ایکزام سنٹر میں نماز بھی پڑھنے دی جائے ۔ اگر مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بجرنگ دل کے کارکن ہندو طلبہ اور طالبات کو تمام ایکزام سنٹر میں تلک لگاکر ، بھگوا پٹہ لگاکر نیز ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرتے ہوئے امتحان کے لئے جائیں گے ۔