بارش میں شہر کی کئی سڑکیں جھیل میں تبدیل ، جی ایچ ایم سی اور حیڈرا میں عدم تال میل سے عوام کو مشکلات

   

حیدرآباد۔23جولائی (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور ’حیدرا‘ کے درمیان عدم تال میل کے نتیجہ میں شہر کی کئی سڑکیں جھیل میں تبدیل ہونے لگی ہیں جبکہ ’حیدرا‘ کی جانب سے قائم کی جانے والی 150 ایمرجنسی ٹیمیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سرگرم عمل ہیں اس کے باوجود سڑکوں سے پانی کی نکاسی میں ہونے والے مسائل شہریوں کے لئے مشکل کا سبب بن رہے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کی جن سڑکوں پر بارش کی صورت میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کی نشاندہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے کر رکھی تھی اور جب کبھی بارش ہوتی ان سڑکوں پر فوری طور پر ایمرجنسی ٹیمیں متحرک ہوتے ہوئے پانی کی نکاسی کے اقدامات کو یقینی بنایا کرتی تھیں لیکن اب جبکہ پانی کی نکاسی کا معاملہ اور سڑکوں پر جمع پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے علاوہ نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے ذریعہ شہریوں کو راحت پہنچانے کے امور ’حیدرا‘ کے سپرد کئے جاچکے ہیں تو ایسی صورت میں کئی گھنٹوں تک سڑکوں سے پانی کی نکاسی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے ۔ بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ سڑکوں پر جمع پانی سے متعلق امور اب مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے دائرہ کار میں نہیں ہیں اور زون واری اساس پر ایمرجنسی ٹیموں کی نگرانی بھی ان کے دائرہ اختیار میں نہ ہونے کے سبب یہ مسائل پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ سابق میں ایمرجنسی ٹیموں کی نگرانی متعلقہ زون کے عہدیداروں کے پاس ہوا کرتی تھی اور عہدیدار امکانی نشیبی علاقوں کے علاوہ جن مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوتا تھا ان علاقوں کے قریب ایمرجنسی ٹیموں کو متعین کیا کرتے تھے لیکن اب ’حیدرا‘ کو جب تک شکایات موصول نہیں ہوتی اس وقت تک ایمرجنسی ٹیمیں متاثرہ علاقہ کے لئے روانہ نہیں ہوتی ہیں اور بارش کے علاوہ پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں ان ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اسی لئے دونوں شہروں کے بیشتر علاقوں میں بارش کے ساتھ ہی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں اور کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر بارش کا پانی جمع رہنے کے سبب ٹریفک میں خلل پیدا ہورہا ہے جبکہ ’حیدرا‘ کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ دونوں شہروں میں موجود برساتی نالوں کی عدم صفائی کے سبب شہر کی سڑکیں بارش کے نتیجہ میں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں اور پانی کی نکاسی میں دشواری پیش آرہی ہیں۔3