لندن: برطانوی ماہرین نے لیوکیمیا کی ایک خاص قسم سے متاثرہ لڑکی پر بالکل نئی تھراپی کی پہلی مرتبہ آزمائش کی ہے جس میں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔13 سالہ لڑکی ایلیسا کو 2021 میں ٹی سیل اکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا لاحق ہوا تھا جس پر روایتی طریقہ علاج سمیت کیموتھراپی اور ہڈیوں کے گودے (بون میرو) کی متنقلی بھی کی گئی لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔اب لندن کے گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ ہسپتال برائے اطفال ( جی او ایس ایچ) نے لڑکی پر جینیاتی انجینیئرنگ سے گزارے گئے امنییاتی خلیات داخل کیے جو ایک تندرست انسان سے لئے گئے تھے۔