لندن : برطانیہ نے دْہری شہریت کے حامل ایران کے سابق اعلیٰ عہدہ دارکو پھانسی دینے کے بعد تہران کی ‘کمزور اور الگ تھلگ حکومت’ کے خلاف مزید انتقامی کارروائی کاعزم ظاہرکیا ہے۔برطانیہ نے علی رضااکبری کی پھانسی کے بعد لندن میں ایران کے سب سے سینیرسفارت کارکوطلب کیا تھا اورتہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔برطانوی حکومت نے ایران کے پراسیکیوٹرجنرل محمد جعفرمنتظری پرپابندیاں عاید کی ہیں جبکہ سپاہ پاسداران انقلاب پرپابندی عایدکرنے کے حزب اختلاف کے مطالبے کونظراندازکردیا۔برطانوی پارلیمان میں وزیرخارجہ جیمزکلیورلی سے اس طرح کے مزید مطالبات کیے گئے ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ وہ مستقبل کے فیصلوں پرکوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔لیکن انھوں نے کہا:’’ہم اپنے آپ کو ان اقدامات تک محدود نہیں رکھتے جن کا میں پہلے ہی اعلان کرچکا ہوں‘‘۔وزیراعظم رشی سوناک کے ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ’’ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مزید کارروائی کا جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔