بنگال :احتجاجی ڈاکٹروں کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

   

کولکتہ: حکومت مغربی بنگال نے سرکاری آر جی کار ہاسپٹل میں ایک ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کے ایک اور دور کیلئے چہارشنبہ کو انہیں مدعو کیا گیا۔حکومت نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو چیف سکریٹری کے پاس ان کے مطالبے پر مذاکرات کے نئے دور کیلئے بلایا۔ چیف سکریٹری منوج پنت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں سے ریاست کے کچھ حصوں میں سیلاب جیسی صورتحال کے پیش نظر کام پر واپس آنے کی اپنی اپیل کا اعادہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا آپ جانتے ہیں کہ جنوبی بنگال کے بہت سے اضلاع میں سیلاب جیسی صورتحال ہے اور ایک بڑا علاقہ زیر آب آ گیا ہے۔
پنت نے ڈاکٹروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہاکہ مندرجہ بالا صورتحال کے پیش نظر، ہم دوبارہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ کو بڑے عوامی مفاد میں اپنے کام پر واپس آنا چاہیے اور عام لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ وہ احتجاجی ڈاکٹروں کے 30 رکنی وفد سے ملاقات کریں گے ۔ اس سے قبل، جونیئر ڈاکٹروں نے چیف سکریٹری کو ایک خط لکھا تھا جس میں دواخانوں میں سیکورٹی کے مسائل اور دیگر شکایتیں دور نہ ہونے کے بارے میں غوروخوض اور ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مطالبہ ریاستی ہیلتھ ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کو ختم کرنے کی پیشگی شرائط میں سے ہے۔ اسمبلی کے اجلاس کے بعد ڈاکٹروں نے صبح ای میلز بھیجے۔ احتجاجیوں نے سرکاری ہاسپٹل کمپلیکس کے اندر سیکورٹی کے مسائل کو نمایاں مطالبہ کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ٹرینی کے ریپ اور قتل جیسے واقعات کے مستقبل میں سدباب کیلئے ریاستی حکومت تمام تر ضروری اقدامات کرے۔