ہندو مذہبی لیڈر چنموئے کرشنا داس کو رہا کرنے آر ایس ایس کا مطالبہ
نئی دہلی :آر ایس ایس نے آج بنگلہ دیش کی عبوری حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہندوؤں پر مظالم کو روکنے کو یقینی بنائے اور ہندو مذہبی لیڈر چنموئے کرشنا داس کو فوری جیل سے رہا کیا جائے۔آر ایس ایس جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے ایک بیان میں حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے اپنی کوششیں جاری رکھے اور ضروری اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں، خواتین اور دیگر تمام اقلیتوں پر اسلامی بنیاد پرستوں کے حملوں، قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور غیر انسانی مظالم کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اس کی مذمت کرتی ہے۔ہوسابالے نے کہا کہ انہیں روکنے کی بجائے بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت اور دیگر ایجنسیاں خاموش تماشائی ہیں۔آر ایس ایس جنرل سکریٹری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ہندوؤں کے خلاف ناانصافی اور مظالم کا ایک نیا دور اپنے دفاع کیلئے جمہوری طریقے سے آواز اٹھانے کو دبانے ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بنگلہ دیش کی حکومت کی ناانصافی ہے کہ وہ اسکون سے وابستہ مہنت چنموئے کرشنا داس، جو اس طرح کے پرامن مظاہروں میں ہندوؤں کی قیادت کر رہے ہیں، کو جیل بھیج دیں۔ بنگلہ دیش کی پولیس نے پیر کو چنموئے کرشنا داس برہمچاری کو ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ چٹاگانگ جا رہے تھے۔ہوسابالے نے کہاکہ سنگھ بنگلہ دیش کی حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم فوری بند ہو جائیں اور چنموئے کرشنا داس کو جیل سے رہا کیا جائے۔ آر ایس ایس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی برادری اور اداروں کو اس نازک وقت میں بنگلہ دیش کے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے ۔