راج بھون ۔ پرگتی بھون تنازعہ موضوع بحث
چیف سکریٹری کے راج بھون پہنچنے کی تصویر جاری ۔ صدر نشین منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا رد عمل
حیدرآباد۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) گورنر کی چیف سکریٹری کے خلاف کئے گئے ریمارکس پر سوشل میڈیا میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بی آر ایس کے قائدین کے علاوہ ٹوئٹر صارفین دلچسپ ریمارکس کررہے ہیں۔ 10 بلز کی عدم منظوری کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس پر گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے ٹوئٹر پر چیف سکریٹری شانتی کماری کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کیا تھا کہ دہلی سے راج بھون قریب ہے۔ راج بھون کو پہنچنے کے بجائے سپریم کورٹ کو پہنچ جانے پر چیف سکریٹری کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیف سکریٹری بننے کے بعد پروٹوکول کے تحت ان سے ملاقات نہ کرنے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم خیرسگالی ملاقات تو کرلیتیں۔ گورنر کے ان ریمارکس پر چیف سکریٹری نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تاہم صدر نشین تلنگانہ ایم ڈی سی کرشنک نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر گورنر کو اتنا لمبا چوڑا ٹوئٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بلز کی منظوری کے لئے چھوٹی دستخط کردیتی تو کافی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 بلز 10 ماہ سے راج بھون میں زیر التواء رکھے گئے ہیں جبکہ چیف سکریٹری کا دو ماہ قبل انتخاب ہوا ہے۔ انہوں نے یوم جمہوریہ تقریب کے علاوہ ایٹ ہوم میں بھی راج بھون پہنچ کر گورنر سے ملاقات کی تھی۔ کرشنک نے اس کی تصاویر کو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے چیف سکریٹری کے راج بھون نہ پہنچنے گورنر کے ردعمل کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی اور استفسار کیا کہ کیا یہ چیف سکریٹری نہیں ہے؟ یا ان کی جڑوا بہن ہے؟ ٹوئٹر صارفین نے کہا کہ ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کی جانب سے راج بھون پہنچ کر بلز پر وضاحت کرنے کے باوجود بلز کو زیر التواء رکھنے کی وجہ دریافت کی۔ ن