بڑی ایجنسیوں کو اڈانی گروپ کیس کی تحقیقات کرنا چاہئے

   

اپوزیشن پارلیمنٹ میں اس معاملہ کو اٹھاتی رہے گی، کانگریس کا ردعمل
نئی دہلی: کانگریس نے آج کہا کہ اڈانی گروپ کے معاملے میںمودی کے متر نے ایک بڑا قانونی شوشہ چھوڑا ہے، جبکہ ملک کی بڑی ایجنسیوں کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھاتی رہے گی۔ اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ نے آج کہا کہ ارب پتی گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی پر رشوت ستانی کے ایک مبینہ کیس میں امریکہ کے فارن کرپٹ پریکٹس ایکٹ (FCPA) کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پر سیکیورٹیز فراڈ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے، جس میں مالیاتی جرمانے بھی شامل ہیں۔ رمیش نے ایک بیان میں کہاکہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ موڈانی گروہ نے آج صبح سویرے ایک بہت بڑا قانونی شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب انہیں دوسرے ممالک میں سنگین کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور وہ طریقہ کار جنہیں وہ نہ تو ڈرا سکتے ہیں اور نہ ہی ختم کر سکتے ہیں، پھر موڈانی گروہ انکار کر کے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مضحکہ خیز کوشش امریکی ایجنسیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سنگینی کو کم نہیں کر سکتی۔ رمیش نے کہا کہ کوئی بھی اس حقیقت کی تردید نہیں کر سکتا کہ امریکی محکمہ انصاف کا الزام واضح طور پر کہتا ہیکہ گوتم ایس اڈانی، ساگر آر اڈانی اور دیگر نے ہندوستانی سرکاری اہلکاروں کو رشوت کی پیشکش کی، مجاز، (رشوت) دینے اور وعدہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔