بھارت جوڑو یاترا سے تلنگانہ میں کانگریس کی اقتدار میں واپسی یقینی: محمد علی شبیر

   


حیدرآباد میں استقبال سے راہول گاندھی متاثر، کارکنوں میں نیا جوش
حیدرآباد۔/8 نومبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے دعویٰ کیا ہے کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا تلنگانہ میں غیر معمولی کامیاب رہی اور اس کا اثر دیرپا قائم رہے گا۔ تلنگانہ میں یاترا کے اختتام کے بعد محمد علی شبیر نے کہا کہ یاترا میں ہر موڑ پر ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں کانگریس دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔ محمد علی شبیر جو یاترا کے دوران فوڈ کمیٹی کے صدرنشین تھے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے توقع سے کہیں زیادہ شرکت کرتے ہوئے یاترا سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ دو مقامات سے یاترا کا آغاز ہوتا رہا جس میں عوام جوش و خروش کے ساتھ شامل رہے۔23 اکٹوبر تا 7 نومبر یاترا نے 7 پارلیمانی حلقوں اور 19 اسمبلی حلقوں میں 375 کیلو میٹر کا احاطہ کیا۔ یکم اور 2 نومبر کو یاترا حیدرآباد میں رہی اور حیدرآباد میں تمام طبقات کی جانب سے غیر معمولی ردعمل رہا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ یاترا میں شامل رہنا ہر کانگریسی کیلئے فخر کی بات ہے۔ راہول گاندھی نے عوام کو اور اتحاد کا پیام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر سیاسی ریالیوں میں ہجوم پر قابو پانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا لیکن راہول گاندھی پُرامن انداز میں آگے بڑھتے رہے اور کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ راہول گاندھی نے ملک کو تقسیم کرنے والی طاقتوں سے چوکنا رہنے کیلئے عوام سے اپیل کی ہے۔ یاترا کیلئے 16 مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں اور ہر کمیٹی نے بہتر انداز میں کام کیا ہے۔ منوگوڑ کے ضمنی چناؤ نتیجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس نے عوام پر یہ چناؤ مسلط کیا تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ تلنگانہ میں کانگریس کمزور ہوچکی ہے۔ دونوں پارٹیاں اس کوشش میں ناکام ثابت ہوئیں۔ دولت اور شراب کے استعمال کے ذریعہ دونوں پارٹیوں نے انتخابی مہم چلائی۔ کانگریس نے پہلے ہی دن اعلان کردیا تھا کہ وہ رقومات خرچ نہیں کرے گی۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران تلنگانہ میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھی گئیں اور راہول گاندھی تلنگانہ میں حاصل تائید سے کافی متاثر ہوئے۔ تاریخی چارمینار کے دامن میں پرچم کشائی اور جلسہ عام سے راہول گاندھی کافی متاثر ہوئے۔ر