لکھنؤ، 23ستمبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اتر پردیش انچارج اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے انتخابی کمیشن کے طریقہ کار فارم۔6میں کی گئی غیرقانونی تبدیلیوں اور ملک کی امن و قانون کی صورتحال کو لے کر مرکز کی مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے ۔ چہارشنبہ کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت پوری طرح خطرہ میں ہے ۔ انتخابی کمیشن کے اندر دو الیکشن کمشنروں نے 14 مرتبہ اختلاف درج کراتے ہوئے فارم۔6میں تبدیلی اور ووٹوں کو شامل کرنے اور حذف کرنے کے مرکزی نظام کو غیر قانونی قرار دیا، لیکن اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار آمرانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کر رہے ہیں۔ سنگھ نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹوں کو حذف کرنے اور شامل کرنے کیلئے جو نیا مرکزی طریقہ نافذ کیا گیا ہے ، اس پر خود دو الیکشن کمشنروں نے 14مرتبہ تحریری مخالفت درج کرائی ہے ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ طریقہ غلط ہے اور ریاستوں کے مقامی افسران، ایس ڈی ایم وغیرہ سے اختیارات چھین کر من مانی طریقے سے نام حذف کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے ۔ جب کمیشن کے اندر ہی دو کمشنر اسے غلط قرار دے رہے ہیں تو گیانیش کمار کس کے اشارے پر یہ من مانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم-6 کے ضوابط کو جان بوجھ کر اتنا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ عام شہری اسے مکمل ہی نہ کر سکے ۔ بنگال میں 60 لاکھ نام حذف کر دیے گئے ، 27 لاکھ نام زیر التوا رکھے گئے اور بعد میں حلف نامہ دے کر تسلیم کیا گیا کہ 93فی صد نام بالکل درست تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن لاکھوں اہل شہریوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا گیا، اس جرم کیلئے جیل کون جائے گا۔ عآپ لیڈر نے کہا کہ دہلی میں سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق فوجی سربراہ، وزیر خارجہ، خارجہ سکریٹری، تین مرتبہ کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور ان کے اہل خانہ، منیش سسودیا اور کپل سبل تک کے نام حذف کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ الیکشن کمشنر سندھو کا نام بھی فہرست سے غائب کر دیا گیا۔
جب ملک کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے والے لوگوں کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو عام عوام کے حق رائے دہی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ آپ رکن پارلیمنٹ نے دو ٹوک مطالبہ کیا کہ جب تک گیانیش کمار عہدے پر ہیں، ملک میں کبھی منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے ، اس لیے انہیں فوری طور پر گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جانا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھاندلی اور ووٹوں کو حذف کرنے کی آڑ میں کرائے گئے بہار، بنگال، دہلی، ہریانہ اور مہاراشٹر سمیت تمام ریاستوں کے انتخابات منسوخ کیے جائیں اور منصفانہ انتخابی فہرست کے ساتھ دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔