بی آر ایس ارکان کو قبائلی تحفظات کی فکر لیکن مسلم تحفظات کے مسئلہ پر عمداً خاموشی

   


پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے روانہ کردہ بل پر حکومت سے سوال ۔ مسلم مفادات سے بتدریج لیکن منظم دوری
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔13۔ڈسمبر۔ مرکز کو تلنگانہ کی جانب سے روانہ تحفظات میں اضافہ کے سلسلہ میں بل’دی تلنگانہ بیاک ورڈ کلاسس ‘ شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب‘ 2017 وصول ہوا لیکن مرکز کی جانب سے سپریم کورٹ میں جاری تحفظات مقدمات کے فیصلوں کے بعد اس کا جائزہ لینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے قبائیلی بہبود مسٹر ارجن منڈا نے بی آر ایس ارکان مسٹر روہت ریڈی کے علاوہ مسز ایم کویتا کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ بی آر ایس ارکان نے لوک سبھا میں حکومت سے استفسار کیا تھا کہ آیا مرکز کو تلنگانہ سے روانہ ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کی تجویز ملی ہے! اگر ہوئی ہے تو مرکز سے کیا اقدامات کئے گئے !حکومت نے اس تجویز کو صدرجمہوریہ کی منظوری کیلئے یہ تجویز روانہ کی اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں! بی آر ایس ارکان نے تلنگانہ میں ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا لیکن اسی ریاست میں مسلم تحفظات میں اضافہ کیلئے بھی اسمبلی میں قرارداد منظور کی جاچکی ہے لیکن اس میں اب تک کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی ہے اور نہ مرکزی حکومت سے استفسار کیا گیا ہے لیکن مرکزی حکومت نے جو جواب دیا ہے اس میں 2017 کے اسی بل کے متعلق جواب دیا گیا جس میں بی سی (ای) زمرہ کے علاوہ ایس ٹی اور ایس سی تحفظات میں
اضافہ کیلئے قرارداد منظور کرکے مرکزکو روانہ کیا گیا تھا لیکن ارکان پارلیمان ڈاکٹر جی روہت ریڈی اور مسز ایم کویتا نے جو استفسار کیا وہ ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کے متعلق تھا جو کہ ریاست میں اضافہ کے احکام جاری کرنے کے علاوہ تقررات میں اس پر عمل کیلئے روسٹر بھی جاری کیا جاچکا ہے۔ریاستی حکومت سے ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے اقدامات کے متعلق آگہی کے باوجود مرکزی حکومت اور اپوزیشن خاموش ہیں لیکن مسلم تحفظات میں اضافہ کی قرار داد پر کوئی کارروائی نہ کئے جانے پر بی آر ایس نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے جو مسلمانوں کی ترقی سے عدم دلچسپی اور انہیں مواقع فراہم کرنے میں غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ بی آر ایس ارکان نے ایس ٹی طبقہ کیلئے استفسار کیا جبکہ تلنگانہ میں حکومت سے ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کیلئے اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے اور اس پر عمل ہورہا ہے لیکن بی آر ایس ارکان یا تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کسی اور رکن کو وہ مسئلہ یاد نہیں ہے جو 2017 سے زیر التواء ہے حالانکہ ریاستی حکومت اگر چاہے تو مسلم تحفظات میں اضافہ کیلئے بھی ایسے اقدامات کرسکتی ہے جس سے ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے سلسلہ میں اعلامیہ و احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے کیونکہ سابق میں جو 5 فیصد تحفظات تھے جنہیں بعدازاں 4فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیاوہ بھی اسی طرح سے منظور کئے گئے اور ان کا انحصار حکومت آندھرا پردیش سے جاری اعلامیہ پر ہی ہے ۔حکومت تلنگانہ سے تلنگانہ میں ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے باوجود پارلیمنٹ میں قبائیلی تحفظات کے مسئلہ کو اٹھایا جانا بی آر ایس کی قبائیلیوں سے ہمدردی اور ان کے مسائل سے دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بی آر ایس اس معاملہ میں کتنی سنجیدہ ہے!