بی ٹیک فیس صرف 43 ہزار طلبہ نے ادا کی ، ڈیمانڈ کی 9120 نشستوں کو منظوری

   


آن لائن میں تقریبا 17 ہزار طلبہ نے سیلف رپورٹنگ نہیں کی ، 28 ستمبر سے دوسرے مرحلے کی کونسلنگ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے انجینئرنگ کالجس میں بی ٹیک میں داخلہ لینے کے پہلے مرحلے کی کونسلنگ میں صرف 43 ہزار طلبہ نے دلچسپی دکھائی ہے ۔ پہلے مرحلے کی کونسلنگ میں کنوینر کوٹہ کے تحت 71,286 نشستیں ہیں 6 ستمبر کو منعقدہ پہلے مرحلے کی کونسلنگ میں 60,208 طلبہ کو نشستیں مختص کی گئی ۔ انہیں فیس داخل کرنے کی 13 ستمبر تک مہلت دی گئی تھی ۔ نشستیں حاصل کرنے والوں میں 43 ہزار طلبہ نے فیس ادا کرتے ہوئے آن لائن میں سیلف رپورٹ کیا ہے ۔ 17 ہزار طلبہ نے سیلف رپورٹ نہیں کیا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چند طلبہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود انہیں کالج یا برانچ پسند نہیں کیا ہے ۔ وہ مینجمنٹ کوٹہ میں داخلہ لینے کے بارے میں غور کررہے ہیں ۔ مزید چند طلبہ کو آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز اور ٹریپل آئی ٹیز میں داخلہ ملنے کے امکانات ہیں ۔ اس کے علاوہ چند طلبہ خانگی کالجس میں اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔ چند طلبہ ڈگری کورسیس میں داخلہ لے رہے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں نشستیں حاصل کرنے والے طلبہ 26 ستمبر سے قبل اپنی نشستیں منسوخ کرلیتے ہیں تو انہیں ادا کردہ مکمل فیس لوٹا دی جائے گی ۔ کنوینر کوٹہ میں تقریبا18 ہزار نشستیں مخلوعہ رہ گئی ہیں ۔ حکومت نے تازہ طور پر 9120 بی ٹیک ، سی ایس ای ، آئی ٹی سے متعلق نشستوں کو منظوری دی ہے ۔ یعنی 27 ہزار سے زائد نشستیں دوسرے مرحلے کی کونسلنگ میں دستیاب ہوں گی ۔ 28 ستمبر سے دوسرے مرحلے کی کونسلنگ کا آغاز ہوگا ۔ چند انجینئرنگ کالجس نے ڈیمانڈ نہ رکھنے والی نشستوں کی تعداد گھٹاتے ہوئے ڈیمانڈ والے کمپیوٹر سائنس سے متعلق برانچ کی نشستوں میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اس طرح حکومت نے 9120 نشستوں کو تازہ منظوری دی ہے ۔ جس کو نیشنل بورڈ آف آکریڈیشن کی مسلمہ حیثیت حاصل ہے ۔ جس میں مزید 4644 نشستوں کی منظوری دینے کی چند کالجس نے درخواستیں داخل کی ہیں اس کو منظوری دینے پر 70 فیصد کنوینر کوٹہ کے تحت مزید 3251 نشستیں دستیاب ہوں گی ۔۔ ن