بیلاروس صرف پڑوسی ہی نہیں بلکہ حقیقی اتحادی بھی :روس

   

ماسکو : روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ بیلا روس مکمل معنوں میںہمارا ساجھیدار ہے۔ سکیورٹی کے موضوعات میں بیلا روس کے ساتھ ہونے والی پیش رفتیں ہمارے لئے اطمینان بخش ہیں۔پوتن نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں صدر الیگزینڈر لوکا شینکو کے ساتھ ملاقات کی۔مذاکرات کے پریس کے لئے کھْلے حصے سے خطاب میں صدر پوتن نے اقتصادیات سمیت دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کا عمومی جائزہ لیا۔انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی کا شعبہ بھی ہمارے باہمی تعلقات کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم سکیورٹی کے موضوعات اور بین الاقوامی شعبے میں باہمی تعاون کے بارے میں بہت محتاط ہیں اور عمومی حوالے سے اپنے باہمی تعلقات کے معیار سے مطمئن ہیں”۔صدر پوتن نے کہا ہے کہ رواں سال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کے 40 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے گا۔ روس نے بیلا روس میں جوہری پاور پلانٹ قائم کیا ہیا ور ہم، جوہری توانائی کے معاملے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے تیار ہیں۔صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ بیلاروس ہمارے لئے ایک ہمسایہ ملک سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بیلاروس ہمارے لئے، مکمل فہوم کے ساتھ، ایک اتحادی ہے”۔صدر الیگزینڈر لوکا شینکو نے بھی کہا ہے کہ دونوں حکومتوں کے مابین بھاری کاروائیاں جاری ہیں اور اس کا ثبوت یہ کہ ہمارے باہمی تجارتی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماضی میں ہمارے باہمی تعاون کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں”۔متعدد شعبوں میں روس اور بیلاروس پر پابندیوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے لوکا شینکو نے کہا ہے کہ “ہم مشترکہ اقدامات کر کے ان پابندیوں کے منفی اثرات زائل کر دیں گے”۔