تاریخی واقعات کو مسخ کرنے سے بچانے حقائق کو پیش کرنا ضروری : پروفیسر رویندر

   

پرآشوب دور میں روزنامہ سیاست کا عوام کو حوصلہ دینے میں اہم کردار : جناب ظہیر الدین علی خاں و دیگر کا سمینار سے خطاب
حیدرآباد۔20جنوری(سیاست نیوز) وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی پرفیسر رویندر نے کہاکہ آصف جاہی سلاطین کی تاریخ پر مشتمل سمینار دراصل عثمانیہ یونیورسٹی آڈیٹوریم میں ہونا چاہئے کیونکہ مذکورہ یونیورسٹی آصف جاہی حکمران کا ہی کارنامہ ہے ۔ انہوںنے ٹی سی ایچ آر اور سیاست کو اس طرح کے سمینار عثمانیہ یونیورسٹی میںمنعقد کرنے کی دعوت دی اور ہر سمینار کے انعقاد میںہر ممکن تعاون کا یقین دلایاہے ۔ادارہ سیاست اور تلنگانہ کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ( ٹی سی ایچ آر) کے زیر اہتمام دو روز سمینار برائے ’’آصف جاہوں کی تشخیص‘‘ میںاپنے کلیدی خطبہ کے دوران پروفیسررویندر نے کہاکہ تاریخی واقعات اورحالات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو روکنے کے لئے حقیقت پر مبنی مقالے نئی نسل کو حقائق سے واقف کروانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ بالخصو ص نئی نسل کے ریسرچ اسکالرس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی تاریخ کو رقم کریں تاکہ جو پیچیدگیاں تاریخ کے ابواب میں پیدا کی گئی ہیں اس کو دور کیاجاسکے۔پروفیسر رویندرنے تلنگانہ مسلح جدوجہد اور دیگر واقعات کے متعلق تحریری تاریخ اور اپنے بڑوں کے بیانات میں تضاد کا اعتراف کیا اور کہاکہ میری والدہ جو مصلح جدوجہد اور پولیس ایکشن ‘ رضاکار تحریک کے متعلق باتیں سناتی ہیں ان میںاور جو مورخین نے ان عنوانات سے جو کتابیں تحریر کی ہیں اس میںبہت بڑا فرق ہے۔ انہوں نے کہاکہ آنکھو ںدیکھا حال سنانے والوں کی باتوں پر زیادہ یقین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حقیقی اور منفی تاریخ کا فرق لوگوں کومحسوس کرانے کی ذمہ داری نئی نسل کے ریسرچ اسکالرس پر عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے ادارہ سیاست اور ٹی سی ایچ آرکی ستائش بھی کی ۔ اس موقع پر پروفیسر رویندر وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاتھوں ’’ریاست حیدرآباد میںستمبر1948کے ہندوستانی فوج کے ہاتھوں پیش آئے پولیس ایکشن‘‘ کے بعد پر مشتمل پنڈت سندر لال کی تفصیلی رپورٹ کی رسم اجرائی بھی انجام پائی۔ اس کے علاوہ مکرم جاہ بہادر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دو منٹ کی خاموشی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ بعدازاں سمینار سے مہمان مقرر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ فرقہ پرستی کے زہر کو کچلنے کے لئے حقیقی تاریخ کو نوجوان نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں ٹی سی ایچ آر کی اس خصوص میںکاوشوں کو سراہا اور کہاکہ میں خود تاریخ سے واقف نہیںتھا کیونکہ اکاونٹس سے میرا تعلق ہونے کی وجہہ سے تاریخ کے مطالعہ سے میں دور تھا مگر تلنگانہ کے ممتاز مورخین کی لکھی ہوئی تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد بہت سارے واقعات سے مجھے واقفیت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات سچ ہے کہ ادارہ سیاست کی بنیاد ریاست حیدرآباد کے امراء ‘ منصب داروں‘ جاگیرداروں اور عام مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کے مقصد سے ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ وہ وقت تھا جب ریاست کے دولت مند ہویامتوسط طبقے کے مسلمان خوف اوردہشت کے ماحول میںاپنے وطن عزیز کو چھوڑ کرجانے کو ترجیح دے رہے تھے ۔ سیاست کی بنیاد ڈال کر مسلمانوں کو اس بات کی طرف راغب کرنے کی کوششوں کا آغاز کیاگیا تھا کیوں کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں پر رہ کر ہم اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرسکتے ہیں ۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ بڑی حد تک روزنامہ سیاست کے آغاز کے مقصد کو کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے ٹی سی ایچ آرکے ذمہ داران بالخصوص کیپٹن لنگا لا پانڈو رنگا ریڈی‘ پروفیسر اڈپا ستیہ نارائنا‘ پروفیسرویویک کو مبارکبادپیش کی او رکہاکہ حقائق پر مشتمل ریاست حیدرآباد کی تاریخ کو منظرعام پر لانے کی جوکوششیں ٹی سی ایچ آر اور اس کے ذمہ داران کررہے ہیںوہ قابل ستائش ہیں۔مہمان مقرر کی حیثیت سے سابق آئی اے ایس اے کے گوئل نے جھوٹی اور فرضی تاریخ کے حوالے سے کہاکہ بزدلوں‘ انگریزوں کی چمچا گیری کرنے والوں کو ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہا ہے جبکہ حقیقی ہیروں کو غنڈہ عناصر کے طور پر پیش کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ نصیر الدولہ کے ملازم تھے مگر مخبری ریسڈنسی کے لئے کرتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ مورخین پر حقیقت پر مبنی تاریخ تحریر کرنے کی ذمہ داری عائد ہے مگر مفادات حاصلہ کے ساتھ تاریخ کو تحریر کرنے کاکام کیاگیا ہے جس کا واحد مقصد نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت نہیںہے جب ریاست حیدرآباد میںلوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے ۔ فرقہ واریت عروج پر تھی مگر اس پراشوب دور میں 15اگست 1949کو سیاست اخبار کی بنیاد ڈالی گئی ۔ انہوں نے استفسار کیاکہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروع کے لئے ادارہ سیاست نے اُس وقت میںجو کام انجام دیا ہے کیاوہ تاریخ کا حصہ نہیںبننا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ رضا کاروں کو مورد الزام ٹہرانے کاکام کیاجاتا ہے بہت ممکن ہے کہ انہوں نے غلط کام بھی کئے ہیںمگر دوسری تنظیمیں جیسے ہندو مہاسبھا وغیرہ کا رول کیا پاک صاف تھا ۔ انہوں نے کہاکہ آصف جاہ سابع کا سب سے بڑا کارنامہ تو یہ ہے کہ انہو ں نے پاکستان کے ساتھ جانے سے منع کردیا۔ اگر وہ پاکستان کے ساتھ جانے کو تیار ہوجاتے تو کیاہوتا ‘ کیا مورخین کی ذمہ داری اس بات کو اجاگر کرنے کی نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ نورانی صاحب کی کتاب میںیہ واقعہ تفصیل کے ساتھ رقم ہے اور ہوم منسٹری میں اس بات کا واضح ثبوت آج بھی موجود ہے کہ نواب عثمان علی خان بہادر نے پاکستان کے ساتھ جانے سے واضح طور پر انکا ر کردیاتھا ۔ اس کے بعد بھی پولیس ایکشن ‘ نسل کشی ‘ قتل وغارت گیری کے واقعات پیش آنے کی حقیقت کوتحریر کرنا ہی حقیقی مورخ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ 1857کی جنگ میں احمد نگر اور بلادھانہ میں روہلائوں نے اپنے وطن عزیز ریاست حیدرآباد کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔اس کے علاوہ انورادھار یڈی کنونیر انٹیک گریٹر حیدرآباد‘ جنرل سکریٹری ٹی سی ایچ آر ٹی ویویک نے بھی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے آصف جاہی حکمرانوں کی رعایا پروری کے واقعات کو پیش کیا۔ سمینار کے دوسرے حصے میں اسسٹنٹ پروفیسر سنگی شیٹی سرینواس ‘ اسسٹنٹ پروفیسر تاریخ سٹی کالج حیدرآباد محترمہ سدیکشا‘ سینئر صحافی دی ہندو سیریش نانی سیٹی‘ اور محترمہ شانتی اسسٹنٹ پروفیسر تاریخ سٹی کالج حیدرآباد نے اپنے مقابلہ جات پیش کئے ۔ سمینار کے تیسرے حصہ میں پروفیسرکے وجئے بابو کاکتیہ یونیورسٹی‘ پروفیسر لاونیا عثمانیہ یونیورسٹی‘ پروفیسر ارونا پریتی تلنگانہ مہیلا یونیورسٹی ‘ سید انعام الرحیم خان غیور نے آصف جاہی حکمرانوں کے مختلف ادوار میں پیش آئے اصلاحات پر مشتمل مقابلہ جات پیش کئے۔تمام مقابلہ نگاروں کو ٹی سی ایچ آر اور سیاست کی جانب سے تہنیت کے ساتھ مومنٹو بھی پیش کیاگیا۔