تاریک رات میں نور !

   

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلَيْنِ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلي اللہ عليه وآله وسلم فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، وَإِذَا نُوْرٌ بِيْنَ أَيْدِيْهِمَا حَتّٰي تَفَرَّقَا فَتَفَرَّقَ النُّوْرُ مَعَهُمَا عَنْ أَنْسٍ رضي الله عنه کَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلي اللہ عليه وآله وسلم .
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْيَعْلَي.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے (مجلس برخواست ہونے کے بعد) تاریک رات میں (گھر جانے کے لئے) نکلے تو (اس تاریک رات میں) اچانک ایک نور ان کے سامنے آ گیا (اور وہ ان کے ساتھ ساتھ روشنی کے لئے رہا) اور جب وہ دونوں آدمی (مختلف اطراف میں گھر ہونے کی وجہ سے الگ الگ راہ پر چل پڑے تو وہ نور بھی ان دونوں کے ساتھ (دو حصوں میں تقسیم ہوکر) الگ الگ ہو گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے (تاریک رات میں گھر جانے والے وہ دو آدمی حضرت اُسید بن حضیر اور عباد بن بشر تھے۔‘‘
حضرت نجاشیؓ کی قبر پر نور ! 
عَنْ عَائِشَةَ رضي ﷲ عنها قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهٗ لَا يَزَالُ يُرٰي عَلٰي قَبْرِهٖ نُوْرٌ. رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ.
’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ جب حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ (شاہ حبشہ) فوت ہوگئے تو ہم بیان کیا کرتے تھے کہ اُن کی قبر پر ہمیشہ نور (برستا) دیکھا جاتا ہے۔‘‘