راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھارت کی آبادی میں اضافے کی شرح میں مذہبی عدم توازن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی وحدت اور سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قومی شہریت رجسٹر تبدیلی مذہب اور دراندازی کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارتی ہونے پر یقین رکھنے والے مختلف مذاہب کے لوگ ہمارے آباؤ اجداد کے نظریات کو سمجھتے ہیں۔ کسی کو کسی زبان، عبادت کے نظام کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں، بنیاد پرست سوچ کو چھوڑنا ضروری ہے۔ مسلمان ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، قوم پرست سوچ ضروری ہے، ہندو سماج ہر کسی کو اپنا لیتا ہے۔ بہت سے مسلمان قابل نمونہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس ملک نے کبھی حسن خان میواتی، حکیم خان سوری، خدابخش، غوث خان اور اشفاق اللہ خان جیسے ہیرو دیکھے۔ وہ سب کے لیے مثالی ہیں۔